یوکرین جنگ میں روسی فوج کی ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ، پوتن نئی بڑے پیمانے کی فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے دباؤ بڑھانے لگے
ماسکو — یوکرین کے خلاف جنگ پانچویں سال میں داخل ہونے کے قریب ہے اور روس کو اپنی فوجی نفری برقرار رکھنے کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے،میدانِ جنگ میں روسی فوج کے بھاری جانی نقصانات کے باعث کریملن نے نئی بڑے پیمانے کی فوجی بھرتی سے بچنے کے لیے رضاکارانہ بھرتی کا سلسلہ تیز کردیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار روس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوتی جارہی ہے
مغربی اندازوں کے مطابق روسی فوج کو ہر ماہ 30,000 سے زیادہ ہلاکتوں اور زخمیوں کا سامنا ہے، جبکہ رضاکارانہ طور پر فوج میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد کم ہورہی ہے،نتیجتاً روس کے مختلف علاقوں کی انتظامیہ پر نئے فوجیوں کی بھرتی کے اہداف پورے کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جارہا ہے
صدر ولادیمیر پوتن نے ستمبر 2022 میں آخری بار بڑے پیمانے پر فوجی متحرک کاری کا حکم دیا تھا،اس اقدام نے روس میں خاصی بے چینی پیدا کی تھی، جس کے بعد کریملن نے دوبارہ ایسی مہم شروع کرنے کے بجائے بھاری مالی مراعات کے ذریعے فوج میں رضاکار بھرتی کرنے کی پالیسی اختیار کی،اب روس کے غریب علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بڑی رقم کے عوض فوج میں شمولیت پر آمادہ کیا جارہا ہے
رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں میں بھرتی کے لیے دباؤ کے ساتھ ساتھ ایسے طریقے بھی استعمال کیے جارہے ہیں جن میں سڑکوں پر لوگوں کو روکنا، انہیں فوجی معاہدوں پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا اور طلبہ، سابق قیدیوں، قرض داروں اور دیگر کمزور طبقات کو ہدف بنانا شامل ہے۔ بعض مقامات پر نئے فوجیوں کی بھرتی پر بھاری مالی بونس بھی دیے جارہے ہیں
روس کی مشکل اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ نئی بھرتی ہونے والی نفری کا بڑا حصہ تیزی سے محاذ پر بھیجا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں فوج کو مؤثر تربیت یافتہ ذخائر تیار کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں،ماہرین کے مطابق اگر روسی فوج کے نقصانات اور بھرتی کے درمیان فرق مزید بڑھا تو کریملن کے لیے کسی نئی شکل کی فوجی متحرک کاری کا فیصلہ مؤخر کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے
تاہم روسی حکام نے فی الحال نئی بڑے پیمانے کی فوجی متحرک کاری کے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی ،یوکرینی حکام اس کے برعکس خبردار کرچکے ہیں کہ ماسکو موسمِ خزاں میں مزید فوجی بھرتی کی تیاری کرسکتا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روسی قیادت سیاسی طور پر انتہائی حساس اس فیصلے کو کم از کم ستمبر کے پارلیمانی انتخابات تک مؤخر رکھنے کی کوشش کرسکتی ہے
یوں یوکرین جنگ روس کے لیے صرف میدانِ جنگ کی لڑائی نہیں رہی بلکہ انسانی وسائل کا ایک بڑھتا ہوا بحران بھی بن چکی ہے، جس میں کریملن کو ایک طرف بھاری فوجی نقصانات پورے کرنے ہیں اور دوسری طرف نئی جبری متحرک کاری کے ممکنہ سیاسی ردِعمل سے بھی بچنا ہے





