دو بزرگ، دو داستانیں، ایک سوال: جنہوں نے وطن کے لیے زندگیاں وقف کیں، وہی اپنے انجام پر گولیوں کا نشانہ بن گئے
بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر آزاد کشمیر کی وادیوں تک، دو بزرگوں کی کہانیاں آج ایک گہرے المیے کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔ دونوں کا ماضی قربانی، وفاداری اور بہادری سے بھرا ہوا تھا، مگر ان کی زندگیوں کا اختتام ایک ایسے سوال کو جنم دے گیا ہے جس پر معاشرہ بحث کر رہا ہے۔

ایک طرف بلوچستان کے بزرگ رہنما نواب اکبر بگٹی کی داستان ہے، جنہوں نے قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کی حمایت کی، اپنی ریاست کو پاکستان میں شامل کیا اور نئی مملکت کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ بعد کے برسوں میں وہ ریاستی پالیسیوں کے سخت ناقد بن گئے۔ ان کے حامیوں کے مطابق انہوں نے ایک بیٹی کے لیے انصاف کے مطالبے سمیت مختلف سیاسی معاملات پر آواز اٹھائی، اور بالآخر 2006 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کے 85 سالہ کمانڈر فاروق خان کی کہانی ہے، جو ماضی میں اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) سے وابستہ رہے۔ انہیں 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
ان کے ساتھیوں کے مطابق جنگی محاذ پر انہوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ایک موقع پر جب بھارتی فوج نے اہم فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور پاکستانی دستے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے، تو کمانڈر فاروق خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے ان چوکیوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا اور انہیں پاکستانی فوج کے حوالے کیا۔
مگر وقت کا المیہ یہ ہے کہ جس شخص نے کبھی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائے، وہی کمانڈر فاروق خان حالیہ آزاد کشمیر احتجاج کے دوران فائرنگ میں جان سے گئے۔
یہ دونوں واقعات مختلف ادوار اور مختلف حالات سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ایک مشترک سوال چھوڑ جاتے ہیں: کیا ریاست کے لیے قربانیاں دینے والے افراد کے ساتھ تاریخ کے مختلف موڑ پر انصاف ہو سکا؟
نواب اکبر بگٹی اور کمانڈر فاروق خان کی زندگیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سیاسی اختلافات، ریاستی فیصلے اور طاقت کے استعمال کے اثرات صرف ایک لمحے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ نسلوں تک سوالات کو زندہ رکھتے ہیں





