مودی کی معافی نہیں، نوجوانوں سے معذرت بنتی ہے: کانگریس کا حملہ، جے رام رمیش نے مودی پر سیاسی اسکورنگ کا الزام لگا دیا
نئی دہلی: بھارت میں طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس نے وزیرِاعظم نریندر مودی کے اس بیان پر سخت ردِعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان نوجوانوں کو معاف کر چکے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ وزیراعظم کو نوجوانوں کو معاف کرنے کی بات کرنے کے بجائے ملک کے نوجوانوں سے معذرت کرنی چاہیے۔ ان کا الزام تھا کہ امتحانی پرچوں کے افشا اور طلبہ کے مسائل کے باعث لاکھوں نوجوانوں کو ذہنی اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جے رام رمیش نے وزیراعظم پر “مظلومیت کا کارڈ کھیلنے” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل، تعلیمی نظام کی خامیوں اور طلبہ کے غصے کا جواب کب دے گی۔
کانگریس رہنما نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیراعظم مودی اپنے سیاسی مخالفین اور سابق وزرائے اعظم پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں اور پارلیمنٹ سمیت عوامی خطابات میں ان کے خلاف غلط معلومات پھیلاتے رہے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم مودی نے نوجوانوں سے متعلق گفتگو میں کہا تھا کہ وہ معاشرے میں موجود بے چینی کو سمجھتے ہیں، لیکن یہ وقت نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنے اور انہیں صحیح سمت دکھانے کا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ سیاسی تنازع ایسے وقت میں جاری ہے جب بھارت میں امتحانی نظام، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کے مستقبل کے مسائل اہم سیاسی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ طلبہ کے خدشات کا حل محض بیانات نہیں بلکہ جواب دہی اور اصلاحات ہیں، جبکہ حکومت نوجوانوں کے لیے اقدامات کا دفاع کرتی رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق نوجوان ووٹر بھارت کی سیاست میں ایک اہم قوت بن چکے ہیں، اس لیے تعلیمی بحران اور روزگار سے متعلق معاملات آنے والے سیاسی مباحث میں مرکزی حیثیت رکھتے رہیں گے





