Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران ایسی اسٹریٹیجک شطرنج کھیل رہے ہیں جہاں شکست سب کی ہے، فتح کسی کی نہیں

آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران ایسی اسٹریٹیجک شطرنج کھیل رہے ہیں جہاں شکست سب کی ہے، فتح کسی کی نہیں

دنیا کی تاریخ میں بعض معرکے ایسے ہوتے ہیں جن میں گولی چلنے سے پہلے ہی فاتح اور مفتوح کا تصور دھندلا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز آج اسی کیفیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ یہاں طاقت صرف طیاروں، جنگی جہازوں اور میزائلوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ جغرافیہ، صبر، معیشت اور سیاسی برداشت بھی جنگ کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنی بے مثال عسکری قوت کے باوجود ایران کو فیصلہ کن طور پر زیر نہیں کر سکتا، جبکہ ایران بھی امریکہ کو میدانِ جنگ میں شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دونوں ایک ایسے بند راستے پر کھڑے ہیں جہاں ہر قدم آگے بڑھنے والا خود بھی زخمی ہوتا ہے۔

یہ حقیقت اب عالمی عسکری اور سیاسی حلقوں میں تسلیم کی جا رہی ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی روایتی جنگ کے بجائے ایسے نظام پر استوار کی ہے جس کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اس کی طاقت کو مسلسل مہنگا، تھکا دینے والا اور سیاسی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دینا ہے۔ ساحلی میزائل، بارودی سرنگیں، تیز رفتار کشتیاں، بغیر پائلٹ طیارے اور منتشر عسکری ڈھانچہ اسی سوچ کا حصہ ہیں۔

دوسری طرف امریکہ کے پاس جدید ترین بحری بیڑے، فضائی برتری اور حیران کن عسکری وسائل موجود ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کا تنگ جغرافیہ اس برتری کو محدود کر دیتا ہے۔ یہاں کسی بھی بڑے حملے کی قیمت صرف فوجی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی رسد، مالیاتی منڈیوں اور دنیا کی معیشت تک پھیل جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں کی کشیدگی کئی برسوں کی معاشی بے یقینی کو جنم دے سکتی ہے۔

اس پوری کشمکش کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی بلکہ قومی معیشت، عوامی رائے، سیاسی استحکام اور بین الاقوامی سفارت کاری بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے طاقت کا بے دریغ استعمال ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں رہتا۔ بعض اوقات جنگ جیتنے کی کوشش خود جنگ ہارنے کا آغاز بن جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز کا بحران دراصل اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اکیسویں صدی میں ہر عسکری مسئلے کا عسکری حل ممکن نہیں۔ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اسے طویل اور مہنگی کشمکش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اگر ایران تصادم کو وسعت دیتا ہے تو اس کی اپنی معیشت اور ریاستی ڈھانچہ بھی شدید دباؤ میں آ سکتا ہے۔ یوں دونوں ایسے اسٹریٹیجک جال میں گھرے ہوئے ہیں جہاں طاقت موجود ہے مگر فیصلہ کن فتح کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

شاید اسی لیے آج سب سے بڑی طاقت میزائل نہیں بلکہ تدبر ہے، سب سے مؤثر ہتھیار بارود نہیں بلکہ سفارت کاری ہے، اور سب سے بڑی کامیابی دشمن کو مٹانا نہیں بلکہ ایسی جنگ کو روک دینا ہے جس میں آخرکار سب کچھ جل جاتا ہے، سوائے انسانی پچھتاوے کے

قومی خبریں سے مزید