سونم وانگچک کا اسپتال سے پیغام، حکومت کی یقین دہانی پر بھوک ہڑتال ختم کرنے کا عندیہ
نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک نے گروگرام کے میڈانتا اسپتال سے اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور حکومت کی جانب سے طلبہ کے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال کے 25ویں روز جاری کیے گئے پیغام میں کہا کہ اگر حکومت اس بات کی ضمانت دے کہ پیر کے روز احتجاجی مارچ میں شریک ہونے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی، گرفتاری یا کسی قسم کی ہراسانی نہیں کی جائے گی تو وہ اپنا احتجاج ختم کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وانگچک کی طویل بھوک ہڑتال نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج کو نمایاں کیا، جو نیٹ یو جی امتحان میں مبینہ پرچے کے افشا اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔
وانگچک نے حکومت سے طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور شفاف امتحانی نظام کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ اور امتحانی عمل پر اعتماد بحال کرنا ہے۔
حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں پرچے لیک کے مقدمات کے لیے تیز رفتار عدالتیں قائم کرنے اور سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم مظاہرین مزید واضح اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں





