ایران کے خلاف بڑے عسکری آپشنز زیر غور، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کمک بڑھا دی
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے خطے کی جانب مزید فوجی دستوں، طبی عملے اور جنگی سازوسامان کی منتقلی شروع کر دی ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ طور پر زیادہ وسیع اور مؤثر عسکری کارروائی کے مختلف اختیارات میسر آ سکیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران سے منسلک حملے میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اضافی فوجی تعیناتی کا مقصد نہ صرف خطے میں موجود امریکی افواج اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے بلکہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو محدود جوابی حملوں سے لے کر زیادہ بڑے فوجی آپریشن تک مختلف عسکری متبادل فراہم کرنا بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا خطے میں اپنی عسکری استعداد، طبی سہولتوں اور جنگی رسد کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ امریکی حکام نے باضابطہ طور پر کسی نئے فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا، تاہم دفاعی تیاریوں میں تیزی کو اس بات کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے کے امکان کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی کی منڈیاں اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہیں





