کراچی: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے اپنی تازہ رپورٹ “سیڈز آف گروتھ” میں کہا ہے کہ پالیسیوں پر عمل درآمد میں تاخیر، غیر مستقل حکومتی فیصلوں اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث پاکستان کے زرعی شعبے کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔
رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوار اپنے عروج کے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں تک آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل صنعت کو ہر سال 2 سے 3 ارب ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کرنا پڑ رہی ہے اور برآمدی آمدن بھی متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں اس کمی کی وجہ موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملے، ناقص بیج اور بعض زرعی ادویات پر سائنسی منصوبہ بندی کے بغیر پابندی کو قرار دیا گیا ہے۔
او آئی سی سی آئی نے کہا کہ بایوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری خوش آئند ہے، تاہم اس پر فوری عمل درآمد نہ ہونے کے باعث مکئی، آلو، دودھ اور دیگر زرعی شعبوں میں بھی ترقی کے مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زرعی اصلاحات اور بروقت فیصلوں سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی سہارا مل سکتا ہے۔





