Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس میں تاریخی گرمی کی لہر سے 5,700 سے زائد اضافی اموات، 2003 کے بعد بدترین موسمی بحران

فرانس میں تاریخی گرمی کی لہر سے 5,700 سے زائد اضافی اموات، 2003 کے بعد بدترین موسمی بحران

فرانس میں گزشتہ ماہ آنے والی شدید گرمی کی تاریخی لہر کے دوران معمول سے 5,700 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جسے 2003 کے بعد ملک میں گرمی سے ہونے والی سب سے بڑی ہلاکتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فرانس کے محکمۂ صحت عامہ نے بدھ کو بتایا کہ 17 جون سے 2 جولائی تک شدید گرمی سے متاثرہ علاقوں میں تمام وجوہات کے باعث 21,674 اموات ہوئیں۔

صحت کے حکام کے مطابق اگر گرمی کی غیر معمولی لہر نہ آتی تو انہی علاقوں میں متوقع اموات کی تعداد تقریباً 15,910 رہتی۔ اس حساب سے اصل اور متوقع اموات کے درمیان فرق 5,764 بنتا ہے، جنہیں گرمی کی لہر سے منسلک اضافی اموات قرار دیا گیا ہے۔

فرانس کے محکمۂ صحت نے کہا کہ اس دوران اموات کی شرح معمول سے تقریباً 36 فیصد زیادہ رہی، جو 2003 کے بعد کسی بھی شدید گرمی کی لہر کے دوران سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

2003 میں فرانس کو ایک تباہ کن گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے نتیجے میں اندازاً 15,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے فرانسیسی حکام نے شدید موسم سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا، تاہم حالیہ درجۂ حرارت نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر تشویش بڑھا دی ہے۔

ماہرین کے مطابق شدید گرمی خاص طور پر بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد، بچوں اور کمزور صحت رکھنے والے شہریوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے یورپ بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور صحت کے خطرات پر نئی بحث شروع کر دی ہے۔

فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران گرمی کی لہریں زیادہ بار، زیادہ شدت اور زیادہ طویل دورانیے کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جسے سائنس دان عالمی درجۂ حرارت میں اضافے سے جوڑتے ہیں

قومی خبریں سے مزید