مصنوعی ذہانت نے شیئر بازار میں نئی طاقت پیدا کر دی، 3 ٹریلین ڈالر کا ’’میمی‘‘ شعبہ عالمی سرمایہ کاری کا نیا مرکز بن گیا
عالمی حصص بازاروں میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب نے ایک نئے شعبے کو جنم دیا ہے جسے سرمایہ کار ’’میمی‘‘ کے نام سے پکار رہے ہیں، اور یہ شعبہ تقریباً 3 ٹریلین ڈالر کی مجموعی مارکیٹ قدر کے ساتھ عالمی معیشت میں تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔
فورچیون کے مطابق ’’میمی‘‘ دراصل میموری سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے، جو مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو چلانے کے لیے ضروری تیز رفتار میموری چپس تیار کرتی ہیں۔ جدید اے آئی ماڈلز، بڑے ڈیٹا مراکز اور مشین لرننگ نظاموں کے لیے ان چپس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اس شعبے میں جنوبی کوریا کی سام سنگ، ایس کے ہائینکس اور امریکا کی مائیکرون جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں، جنہیں مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ سے براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی نے اب صرف سافٹ ویئر کمپنیوں کو ہی نہیں بلکہ ہارڈ ویئر اور سیمی کنڈکٹر صنعت کو بھی سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔ جس طرح ماضی میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون انقلاب نے نئی کمپنیوں کو عالمی طاقت بنایا، اسی طرح اے آئی انقلاب میں میموری چپس بنانے والی کمپنیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت میں مسلسل اضافے کے باعث میموری چپس کی مانگ آنے والے برسوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی حصص بازاروں میں اب صرف اے آئی سافٹ ویئر نہیں بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ کمپنیاں بھی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں۔
فورچیون کے مطابق ’’میمی‘‘ شعبے کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کامیابی صرف بہترین الگورتھم بنانے سے نہیں بلکہ انہیں چلانے کے لیے ضروری چپس اور بنیادی ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے بھی جڑی ہوئی ہے





