Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چینی مصنوعی ذہانت پر واشنگٹن کی تشویش کے باوجود جینسن ہوانگ کا اوپن سورس ماڈلز کی حمایت کا اعلان

چینی مصنوعی ذہانت پر واشنگٹن کی تشویش کے باوجود جینسن ہوانگ کا اوپن سورس ماڈلز کی حمایت کا اعلان

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ چین کے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز عالمی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض ماڈلز انتہائی اعلیٰ معیار کے ہیں۔

ہوانگ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں چینی مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر تشویش بڑھ رہی ہے اور امریکی حکام ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

این ویڈیا کے سربراہ نے کہا کہ اوپن سورس ماڈلز، جن میں چین کے تیار کردہ بعض نظام بھی شامل ہیں، دنیا بھر کے ڈویلپرز اور کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کِمی جیسے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز قابلِ ذکر کارکردگی دکھا رہے ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جینسن ہوانگ طویل عرصے سے اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف چند بڑی کمپنیوں یا ممالک تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ وسیع پیمانے پر جدت اور تحقیق کے لیے کھلا ماحول ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ہوانگ کا بیان مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک اہم حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مقابلہ اب صرف ہارڈ ویئر یا کمپیوٹنگ طاقت کا نہیں بلکہ بہترین الگورتھمز، ڈیٹا اور اوپن سورس تحقیق کا بھی ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس ٹیکنالوجی کو معیشت، دفاع اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید