چینی مصنوعی ذہانت پر واشنگٹن کی تشویش کے باوجود جینسن ہوانگ کا اوپن سورس ماڈلز کی حمایت کا اعلان
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ چین کے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے ماڈلز عالمی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان میں سے بعض ماڈلز انتہائی اعلیٰ معیار کے ہیں۔
ہوانگ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں چینی مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر تشویش بڑھ رہی ہے اور امریکی حکام ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
این ویڈیا کے سربراہ نے کہا کہ اوپن سورس ماڈلز، جن میں چین کے تیار کردہ بعض نظام بھی شامل ہیں، دنیا بھر کے ڈویلپرز اور کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کِمی جیسے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز قابلِ ذکر کارکردگی دکھا رہے ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جینسن ہوانگ طویل عرصے سے اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صرف چند بڑی کمپنیوں یا ممالک تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ وسیع پیمانے پر جدت اور تحقیق کے لیے کھلا ماحول ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ہوانگ کا بیان مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں ایک اہم حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ مقابلہ اب صرف ہارڈ ویئر یا کمپیوٹنگ طاقت کا نہیں بلکہ بہترین الگورتھمز، ڈیٹا اور اوپن سورس تحقیق کا بھی ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ آنے والے برسوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس ٹیکنالوجی کو معیشت، دفاع اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں





