Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کا بار بار ایک ہی جملہ دہرانا، ماہرین کے مطابق دباؤ میں طاقت دکھانے کی حکمت عملی

ٹرمپ کا بار بار ایک ہی جملہ دہرانا، ماہرین کے مطابق دباؤ میں طاقت دکھانے کی حکمت عملی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ تند و تیز انٹرویو کے دوران بار بار دہرائے گئے ایک جملے نے ماہرینِ زبان اور انسانی رویوں کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ انداز محض اتفاق نہیں بلکہ دباؤ والی صورتحال میں اختیار کیا جانے والا ایک مخصوص طرزِ گفتگو ہو سکتا ہے۔

ہف پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں سوال جواب کے دوران ٹرمپ اور اے بی سی نیوز کی چیف وائٹ ہاؤس نمائندہ میری بروس کے درمیان گفتگو اس وقت کشیدہ ہو گئی جب رپورٹر نے ایران جنگ کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا صدر کے پاس تنازع ختم کرنے کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ سوالات کے دوران بظاہر ناراض دکھائی دیے اور انہوں نے جواب میں کئی سخت جملے استعمال کیے، جن میں یہ کہنا بھی شامل تھا کہ “وہ تباہ ہو رہے ہیں” اور “آپ کچھ نہیں جانتیں”۔ تاہم ماہرین کی توجہ خاص طور پر اس جملے پر مرکوز رہی جو ٹرمپ نے بار بار دہرایا:

“کیا آپ کچھ ایسی بات جانتی ہیں جو میں نہیں جانتا؟”

ماہرینِ ابلاغ اور انسانی رویوں کا کہنا ہے کہ کسی بحث کے دوران ایک ہی جملے کو بار بار دہرانا بعض اوقات گفتگو کا رخ بدلنے، دباؤ واپس دوسرے فریق پر منتقل کرنے اور اپنی پوزیشن کو مضبوط ظاہر کرنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا سیاسی انداز طویل عرصے سے براہِ راست، جارحانہ اور چیلنجنگ گفتگو کے لیے جانا جاتا ہے، جس میں وہ اکثر سوال کرنے والے کو ہی جواب دہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر الفاظ کے ساتھ ساتھ لہجہ، تکرار اور جسمانی انداز بھی سیاسی پیغام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران جنگ، امریکی فوجی کارروائیوں اور تنازع کے ممکنہ اختتام کے حوالے سے صدر ٹرمپ پر اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید