Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

وزیرِ دفاع کی برطرفی پر یوکرین میں سیاسی بحران، زیلنسکی نے فیصلے کا دفاع کر دیا

وزیرِ دفاع کی برطرفی پر یوکرین میں سیاسی بحران، زیلنسکی نے فیصلے کا دفاع کر دیا

کیف: یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے ملک کے مقبول وزیرِ دفاع میخائیلو فیڈوروف کو عہدے سے ہٹانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ریاستی مفاد میں ایک فریق کا انتخاب کرنا پڑا، کیونکہ وزارتِ دفاع اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ انہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ کیف میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ وزیرِ دفاع اور یوکرین کی مسلح افواج کے سربراہ کرنل جنرل اولیگزینڈر سرسکی کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار تھے۔ ان کے بقول دونوں شخصیات کے درمیان طویل عرصے سے “مشکل اور پیچیدہ مکالمہ” جاری تھا، جس کے باعث حکومتی اور عسکری سطح پر ہم آہنگی متاثر ہو رہی تھی۔

میخائیلو فیڈوروف کو یوکرین میں اصلاحات کے حامی، جدید دفاعی نظام کے داعی اور عوام میں مقبول شخصیت سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان کی برطرفی نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض شہری حلقوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیا ہے۔

صدر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے موجودہ حالات میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل اعتماد اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے، اور جب یہ اعتماد برقرار نہ رہے تو قیادت کو مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ دفاع کی برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین روس کے خلاف جنگ کے ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے خیال میں حکومت کے اندر بڑھتے اختلافات نہ صرف سیاسی استحکام بلکہ جنگی حکمتِ عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس فیصلے کو ملکی سیاست کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید