زیرِ التوا نیب اپیلوں میں ضمانت کا اختیار کس عدالت کو؟
سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اس اہم آئینی و قانونی سوال پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے کہ زیرِ التوا قومی احتساب بیورو (نیب) اپیلوں میں ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ سنے گی یا یہ اختیار وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کو منتقل ہو چکا ہے۔ عدالت نے عندیہ دیا ہے کہ اس معاملے پر فیصلہ ایک یا دو روز میں سنایا جا سکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کی 27ویں ترمیم اور نیب قوانین میں کی گئی حالیہ ترامیم کے بعد زیرِ التوا نیب مقدمات میں اپیلوں کے ساتھ ضمانت کی درخواستیں بھی وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
ملزم عامر محمود کے وکیل عباد الرحمٰن لودھی نے عدالت کو بتایا کہ زیرِ سماعت قیدیوں کی ضمانت کا معاملہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت آتا ہے، جبکہ نیب آرڈیننس میں شامل نئی دفعہ 32-اے صرف ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دوسری اپیل سے متعلق ہے، اس لیے ضمانت کی درخواستیں اب بھی سپریم کورٹ ہی سننے کی مجاز ہے۔
دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت پارلیمنٹ کی نیت کا جائزہ نہیں لے رہی، بلکہ یہ طے کر رہی ہے کہ قانون کے مطابق ضمانت کی درخواستیں کس فورم پر سنی جائیں۔ انہوں نے وکیل سے ایسا قانونی راستہ تجویز کرنے کو بھی کہا جس کے ذریعے سپریم کورٹ ان درخواستوں کی سماعت جاری رکھ سکے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں سپریم کورٹ نے کئی اہم مقدمات میں ضمانت سے متعلق فیصلے دیے ہیں، تاہم موجودہ معاملے میں عدالت کو نئے آئینی و قانونی ڈھانچے کی روشنی میں اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرنا ہوگا۔ عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔





