امریکہ نے ایرانی انفرااسٹکچر پر حملوں کا آغاز کردیا ، اہم پل اڑانے شروع کردیے
آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے راستے روکنے کے لیے امریکہ نے ایرانی پلوں کو نشانہ بنایاہے ، جس کے بعد کشیدگی میں مذید اضافہ ہوگیا ہے
امریکہ نے جمعرات کو ایران کے متعدد پلوں کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد ایرانی سپلائی راستوں کو محدود کرنا تھا جو آبنائے ہرمز کے قریب ایک اہم بندرگاہی شہر اور بحری اڈے تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی ان مقامات کے خلاف کی گئی جہاں سے ایران مبینہ طور پر تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور خطے میں اپنی بحری طاقت کے اظہار کے لیے مدد حاصل کرتا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جمعرات کی رات بندر عباس شہر اور اس کے اطراف میں کئی پلوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بندر عباس کو اردگرد کے صوبوں سے ملانے والی اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا۔
بندر عباس ایران کے لیے انتہائی اہم اسٹریجک مقام رکھتا ہے، جہاں پاسداران انقلاب کی بحری تنصیبات موجود ہیں۔ یہ شہر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ایران کی بحری سرگرمیوں اور طاقت کے اظہار کے لیے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے حالیہ دنوں میں بندر عباس کے علاقے کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل رواں ہفتے امریکی افواج نے سمندری ڈرونز کے ذریعے ایران کی ایک آبدوز اور بحری تنصیبات سے متعلق ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی تنصیبات، اتحادی ممالک کے بنیادی ڈھانچے اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے بھی جاری رکھے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے لیے توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں کسی بھی بڑے تصادم سے عالمی تیل کی فراہمی، قیمتوں اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ خلیج فارس میں محدود نوعیت کی فوجی کارروائیاں بھی تیزی سے ایک بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں





