غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” کے تحت محدود، اب صرف پائلٹ منصوبہ رہ گیا
برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ سرپرستی قائم بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کی وسیع پیمانے پر تعمیرِ نو کا ابتدائی منصوبہ نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ اب پورے غزہ کی بحالی کے بجائے صرف ایک چھوٹے پائلٹ منصوبے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے منصوبے میں جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے قریب ایک عارضی کیمپ قائم کرنے کی تجویز ہے، جہاں غزہ کی آبادی کے صرف ایک محدود حصے کو منتقل کیا جائے گا۔ اس کیمپ کا انتظام ایک فلسطینی انتظامیہ، مقامی پولیس اور بین الاقوامی سکیورٹی فورس (ISF) کے محدود دستے کے سپرد ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے پر پیش رفت انتہائی سست ہے۔ کیمپ کی تعمیر کا عملی آغاز ابھی تک نہیں ہو سکا، جبکہ اندازہ ہے کہ یہ منصوبہ 2026 کے اختتام سے پہلے مکمل شکل اختیار نہیں کرے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے تحفظات، جاری فوجی کارروائیاں، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور انسانی امداد پر پابندیوں نے منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ مجوزہ فنڈنگ بھی تاحال مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے محدود پیمانے کا منصوبہ غزہ کے وسیع انسانی بحران کا مؤثر حل نہیں بن سکتا، کیونکہ لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی بحالی کے لیے ایک جامع اور بڑے پیمانے کی تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔





