دانشوری کے پردے میں سیاست، جلسوں کی رونق اور سوالوں سے بھاگتی حقیقت
آفاق فاروقی
نیویارک میں مسلم لیگ کے ہر دھڑے، ہر فرقے، ہر مارکہ ن، ق، ج، پ، ل کے درمیان ایک ہی ایسے عقلمند شخص ہیں جنہیں اب لیگی حلقوں میں دانشور تصور کیا جانے لگا ہے، وہ ہیں راجہ رزاق
آزاد کشمیر میں ریاستی فسطائیت کے دفاع اور فیلڈ مارشل کی شان میں قصیدہ خوانی کے لیے انہوں نے ایک ایسی کانفرنس نما جلسی کا اہتمام کیا جس میں بیس سے بارہ یا بارہ سے بیس افراد شریک تھے، جبکہ میڈیا کی ریڑھیاں حاضرین سے زیادہ دکھائی دے رہی تھیں۔ اسٹیج پر اپنی گلی کے عالمی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، صحافی، اینکر، دانشور، پشتینی اسٹیبلشمنٹی سیاست دان اور کمیونٹی کے بے راہ و رہنما محترم جناب وکیل انصاری بھی موجود تھے، اور کیوں نہ موجود ہوتے کے آپ کی باتوں دعووں کا بوجھ آپ سے بڑا دانشور ہی برداشت کرسکتا تھا
جلسی سے خطاب کرتے ہوئے میرے چھوٹے بھائی راجہ رزاق نے وہی پرانا اور گھسا پٹا بیانیہ دہرایا کہ کشمیریوں کو بجلی تین روپے میں ملتی ہے جبکہ پاکستانی عوام کو پچاس سے ساٹھ روپے فی یونٹ ادا کرنے پڑتے ہیں۔
حالانکہ میرے چھوٹے بھائی کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ پاکستانی عوام کو مہنگی بجلی صرف اعداد و شمار کی وجہ سے نہیں مل رہی، بلکہ اس کے پیچھے وہ پورا نظام موجود ہے جس میں میرے بھائی کے پسندیدہ حکمران خاندانوں، طاقتور طبقات اور ماضی کے حکمرانوں کی پالیسیوں نے توانائی کے شعبے کو عوام کے لیے بوجھ بنا دیا ہے۔ بجلی کے منصوبے بھی اسی طرح چند ہاتھوں میں تقسیم ہوتے رہے جیسے کمزور اور بے سہارا لوگوں کی زندگیوں پر طاقتور طبقوں کی نظریں لگی رہتی ہیں
میں اپنے چھوٹے بھائی راجہ رزاق سے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ اپنے سیاسی قائدین اور فیلڈ مارشل کی تعریف میں ایسی قصیدہ گوئی کر رہے ہیں جو شاید بعض بڑے عہدوں کے خواہش مند افسران اور اربوں کے مال کا پرمٹ کے امیدوار بھی نہ کر سکیں، تو کم از کم حقائق کا سامنا بھی ضرور کریں
کہا جاتا ہے کہ ترقی کی ہڈی کئی لوگوں کے لیے امید کا سہارا ہوتی ہے، مگر سیاست میں خوشامد کا سفر ہمیشہ منزل تک نہیں پہنچاتا، آپ نے
کشمیر سے لے کر فیلڈ مارشل تک جو انکشافات اور بیانیے پیش کیے، وہ واقعے کے پہلے دن کا وہی پرانا چورن تھا جو برسوں سے مختلف انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اب وقت بدل چکا ہے، سوال بدل چکے ہیں اور عوام بھی پہلے کی طرح ہر بات کو بغیر سوچے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ل
کم از کم آپ جب دانشور دانشور سا محسوس کرنے ہی لگے ہیں تو اتنا تو کیا ہوتا کہ پرانے بیانیے کو دہرانے کے بجائے کوئی نیا کھٹا میٹھا چورن پیس لاتے
میں آپ کی توجہ ایک بزرگ کشمیری کی گفتگو کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ ان کے لہجے، اندازِ بیان اور الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ زندگی کے تجربے سے گزرے ہوئے ایک باکردار انسان نظر آتے ہیں ان کی باتوں میں یہ احساس بھی صاف موجود ہے کہ لالچ اور ہوس کی کوئی انتہا نہیں، مگر انسان کی زندگی، عمر اور جسم کا ایک اختتام ضرور ہے
ان بزرگ کی گفتگو سن کر کبھی تنہائی میں خود سے سوال کیجیے گا کہ ہم اپنی زندگی کی معمولی سی بہتری، تھوڑے سے نام و نمود اور چند لمحوں کی میڈیا کی چمک کے لیے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ل
راجہ رزاق صاحب، ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ دنیا صرف نعروں اور جلسوں سے نہیں بدلتی۔ بھارت سے سنگاپور، ہانگ کانگ، تائیوان، چین اور بنگلہ دیش تک، ہر جگہ قوموں نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور تحقیق کو اپنی ترقی کا راستہ بنایا
اور اگر آپ کو اتنا طویل ذہنی سفر بھی مشکل محسوس ہو تو صرف نیویارک میں آباد مختلف کمیونٹیز کو دیکھ لیجیے۔ ان کا اثر و رسوخ، ان کی محنت، ان کی تنظیم اور ان کی کامیابیوں کا جائزہ لیجیے
دنیا طب، سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف جن کے نام پر سیاست کی جاتی ہے، ان کے حالات بیان کرتے ہوئے بھی اب الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم تاریخ کے کس رخ پر کھڑے ہیں؟ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں؟ اور کیا چند لمحوں کی تعریف، چند تصویروں اور میڈیا کی ریڑھیوں پر بھنڈی توری آلو کی طرح سجنے کے لیے ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری بھول سکتے ہیں، دلی دعا ہے اللہ تعالیٰ میرے چھوٹے بھای کو حقیقی شعور و ادراک ، فہم و فراست اور زندگی کے حقیقی گہرے مشاہدے سے سرفراز کرے آمین ثما آمین





