کوئٹہ میں شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری، حکومت سے مذاکرات بے نتیجہ
کوئٹہ — بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا احتجاجی دھرنا چوتھے روز بھی جاری رہا، جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر جاری دھرنا ان سات پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے دیا جا رہا ہے جنہیں زیارت کے منگی ڈیم کے علاقے سے اغوا کرنے کے بعد دہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔
اتوار کی رات تک صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کی سربراہی میں حکومتی وفد اور احتجاج کرنے والے خاندانوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری رہے، تاہم دونوں فریق کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اصولی طور پر واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم دیگر مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
دھرنے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ کئی سیاسی شخصیات احتجاجی کیمپ پہنچیں، جن میں سابق سینیٹر اور معروف سیاسی رہنما نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی بھی شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور پیر کو متوقع ہے۔
حکومتی وفد میں وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور کاکڑ، کمشنر کوئٹہ شہزیب کاکڑ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بدینی شامل ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ شہید پولیس اہلکاروں کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف دہشت گرد حملے ایک طویل عرصے سے بڑا چیلنج رہے ہیں، جبکہ ایسے واقعات کے بعد متاثرہ خاندان اکثر ریاستی اداروں سے شفاف تحقیقات اور فوری انصاف کا مطالبہ کرتے رہے ہیں





