Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ، کان کنی منصوبوں کو رکاوٹوں کا سامنا

بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ، کان کنی منصوبوں کو رکاوٹوں کا سامنا

کوئٹہ — بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹیکس پالیسیوں میں اصلاحات اور سرکاری رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ دُدّر کان کنی منصوبے کے چیئرمین ژانگ لیانگینگ نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے عائد کیے گئے بھاری ٹیکس اور انتظامی پیچیدگیاں بلوچستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

دُدّر کان کنی منصوبے کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ژانگ لیانگینگ نے کہا کہ حکومتوں کو اپنی ٹیکس پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے غیر ملکی سرمایہ کار آسانی کے ساتھ بلوچستان میں کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی کو پیداوار کے عمل میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے، جن کی بڑی وجوہات غیر ضروری ٹیکسز اور وفاقی و صوبائی اداروں کے پیچیدہ طریقہ کار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وفاقی حکومت نے برآمدات کے فروغ اور ٹیکس بوجھ میں کمی کے لیے کمپنی کو برآمدی صنعتی زون کا درجہ دیا تھا، لیکن اس کے باوجود کمپنی پر وفاقی سطح پر تقریباً ۴۲ فیصد تک ٹیکس بوجھ برقرار ہے، جس سے مراعاتی نظام کے بنیادی مقصد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ژانگ لیانگینگ نے زور دیا کہ بلوچستان میں معدنی وسائل کے وسیع امکانات موجود ہیں اور بہتر پالیسیوں، آسان طریقہ کار اور سرمایہ کار دوست ماحول کے ذریعے خطے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر ٹیکس نظام کو حقیقت پسندانہ بنائے اور انتظامی رکاوٹیں کم کرے تو نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ بلوچستان میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال صوبہ ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے، امن و امان، پالیسیوں کے تسلسل اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق مسائل کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت اب تک بروئے کار نہیں آ سکی

قومی خبریں سے مزید