چین کے صدر شی جن پنگ کے سامنے امریکا ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا، اعلیٰ ڈیموکریٹ رہنما کا بیان
واشنگٹن — امریکا کی ڈیموکریٹ جماعت کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات میں امریکا کو اپنے مفادات، عالمی اثر و رسوخ اور تزویراتی پوزیشن کے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
رہنما نے خبردار کیا کہ چین کے ساتھ مقابلے کے موجودہ دور میں امریکا کسی بھی معاملے پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا، کیونکہ بیجنگ عالمی سیاست، تجارت، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے میدان میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو چین کے ساتھ تعلقات میں تصادم کے بجائے مضبوط سفارت کاری، اقتصادی طاقت اور اتحادی ممالک کے تعاون کے ذریعے اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہوگی، تاہم قومی مفادات کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
امریکا اور چین کے درمیان گزشتہ چند برسوں سے تائیوان، جدید ٹیکنالوجی، بحیرہ جنوبی چین، عالمی تجارت اور فوجی اثر و رسوخ جیسے معاملات پر کشیدگی موجود ہے۔ واشنگٹن چین کو ایک بڑا تزویراتی حریف قرار دیتا ہے، جبکہ بیجنگ امریکا پر اپنے اندرونی معاملات اور علاقائی مفادات میں مداخلت کا الزام لگاتا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنما کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، توانائی، معدنی وسائل اور عالمی سپلائی نظام تک پھیل چکا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق امریکا میں چین کے بارے میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود ایک بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ چین کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی حریف سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سخت پالیسی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے دروازے کھلے رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ امریکا اور چین کی کشیدگی کا اثر پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں چین کے بارے میں سخت مؤقف رکھنے والی سوچ سیاسی طور پر مضبوط ہو رہی ہے اور آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات عالمی سیاست کا ایک اہم ترین مسئلہ رہیں گے





