انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ؛ پاکستان کے نظامِ انصاف میں بدعنوانی کے خدشات اور عدالتی آزادی پر سوالات
ت
لاہور: انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ایک نئی رپورٹ میں پاکستان کے عدالتی نظام میں مبینہ طور پر موجود وسیع اور منظم بدعنوانی کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے انسانی حقوق پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ، جس کا عنوان “بینچ کے نیچے: پاکستان کے نظامِ انصاف میں بدعنوانی کے خطرات کا جائزہ” ہے، میں کہا گیا ہے کہ عدالتی نظام میں موجود مختلف نوعیت کے مسائل نے عدلیہ کی آزادی، مؤثریت اور منصفانہ مقدمے کے حق کے تحفظ کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
32 صفحات پر مشتمل رپورٹ انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور انسانی حقوق کی عالمی فیڈریشن کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں عدالتی نظام کے مختلف مراحل میں بدعنوانی کے ممکنہ ذرائع کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اعلیٰ عدلیہ پر ریاستی اثر و رسوخ کے الزامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدالتی معاملات میں مداخلت کے خدشات انصاف کے بنیادی اصولوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ عدالتی نظام میں اقربا پروری، پسند و ناپسند اور سفارش کو بڑے مسائل کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایک آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے عدالتی شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی آزادی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
حکومتی اور عدالتی حلقوں کی جانب سے رپورٹ پر ردعمل سامنے آنا باقی ہے، تاہم یہ دستاویز پاکستان میں عدالتی اصلاحات، احتساب اور قانون کی حکمرانی سے متعلق جاری بحث کو مزید نمایاں کرتی ہے





