کراچی کے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے علاج کے لیے دو ارب روپے کا فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ
کراچی: سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے کراچی کے کولسوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے بچوں کے طویل مدتی علاج، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے دو ارب روپے کا خصوصی فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلہ اس تصدیق کے چند روز بعد کیا گیا ہے کہ ولیکا اسپتال میں زیر علاج 78 بچے ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثر ہوئے ہیں۔
ادارے کے مطابق متاثرہ بچوں کے علاج، ادویات، طبی نگہداشت اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک مستقل مالی نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ان بچوں کو طویل عرصے تک سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست گزار کی جانب سے متاثرہ بچوں کی تعداد 200 بتائی گئی تھی، تاہم سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے تصدیق کی کہ حکومت کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق ولیکا اسپتال میں متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 78 ہے۔
وزیر محنت نے متاثرہ بچوں کے والدین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کے بچوں کے مکمل علاج اور ہر ممکن مدد کے لیے اقدامات کرے گی۔
دوسری جانب سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے اپنے طبی ادارے میں تعینات 37 ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بھی منظوری دے دی ہے۔
واقعے کے بعد صحت کے شعبے میں حفاظتی اقدامات، خون کی منتقلی کے نظام اور طبی غفلت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افراد کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا





