میاں برادران ترکی کیا تلاش کرنے جاتے جہاں کاروبار تو کیا عزت بھی پوری نہیں ملتی ؟
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی استنبول میں متعدد ترک سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جہاں پاکستان ترکیہ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی، توانائی، کان کنی، آئی ٹی، انفرااسٹرکچر اور نج کاری میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر استنبول پہنچ گئے
دوسری جانب ترک سرمایہ کار کمپنی نے بھی پاکستان میں آپریشنز بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
وزیرِ اعظم نے ترک بزنس وفد کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، ترکیہ کے سرمایہ کار گروپ کو بندرگاہوں، میری ٹائم اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری بڑھانے کی بھی دعوت دی۔
اس موقع پر ترک کاروباری رہنماؤں نے پاکستان کی معاشی اصلاحات پر, اعتماد اور پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اعادہ کیا, یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں پاکستانی وزیراعظم کا کل ترکی پہنچنے پر ترکی کے وزیر تجارت عمر بولات نے استقبال کیا جبکہ ترکی کے صدر طیب اردگان جب اپنے آخری دورہ پاکستان کے موقع پر نور خان ایر بیس پر اترے تو انکا استقبال کرنے والوں میں صدر مملکت آصف زرداری خود وزیراعظم کے ساتھ فیلڈ مارشل بھی موجود تھے اور ساتھ ہی پوری کابینہ بھی قطار لگائے کھڑی تھی ، ملک کے تجزیہ نگار اس صورت حال کو انتہائ حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں جب کوئ ملکی سربراہ ہر چھ ماہ بعد کسی ایک مخصوص ملک یا جگہ کا دورہ شروع کردے تو وقعت میں کمی واقع ہونا لازمی ہے اور پھر موجود حکومت کے عہدیدار معاشی بہتری اور تجارتی امکانات کے فروغ کے لیے جس قدر اہمیت دیتے ہیں وہ اس لیے پریشان کن ہیں ہے ترکی کی معشیت گزشتہ کئی سالوں سے شدید دباؤ میں ہے اور وہ کبھی اتنی بڑی معشیت نہیں رہی کے پچیس کروڑ آبادی والا ایٹمی ملک اس پر تکیہ کرنے لگے ، یہ تجزیہ نگار کہتے ہیں شہباز شریف ہی نہیں میاں نواز شریف بھی پاکستانی معشیت کے فروغ کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ترکی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے تھے ، پھر اگر ہم ان دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو متعدد ایسے معاہدے سامنے آجاتے ہیں جن میں پاکستان کو بڑا نقصان ہی نہیں اٹھانا پڑا بلکہ ترکی نے پاکستان کو عالمی عدالت میں گھسیٹنے سے تعکقات میں کشیدگی پیدا ہونے تک کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے





