مصنوعی ذہانت نے بھارت کی ملازمتوں کا رخ بدل دیا، روایتی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کمی مگر مصنوعی ذہانت کی بھرتیاں تیزی سے بڑھنے لگیں
نئی دہلی: بھارت میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ روایتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھرتیوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں تیزی سے نئی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
روزگار سے متعلق ادارے نوکری کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق جون میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ ملازمتوں کی بھرتیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملازمتوں میں 3 فیصد کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کمپنیوں کی ملازمتوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ادارے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور خودکار نظاموں میں مہارت رکھنے والے افراد کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تقریباً 315 ارب ڈالر مالیت کی بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی صنعت کو عالمی معاشی سست روی، کمزور کاروباری سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال کے باعث اپنے روایتی کاروباری ماڈل کو تبدیل کرنے کا دباؤ درپیش ہے۔ اسی لیے کمپنیاں مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپنی افرادی قوت کو نئی مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں





