Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اوپن اے آئی کی امریکی حکومت کو 5 فیصد حصص دینے کی ممکنہ تجویز، اے آئی پالیسی پر نئے سوالات

اوپن اے آئی کی امریکی حکومت کو 5 فیصد حصص دینے کی ممکنہ تجویز، اے آئی پالیسی پر نئے سوالات

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی کی جانب سے امریکی حکومت کو کمپنی میں تقریباً 5 فیصد حصص دینے کی ممکنہ تجویز پر ابتدائی سطح کی بات چیت سامنے آئی ہے، جس نے ٹیکنالوجی اور پالیسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تجویز ابھی ابتدائی غور و فکر کے مرحلے میں ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے معاشی فوائد کو زیادہ وسیع عوامی سطح پر منتقل کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو امریکی حکومت کو یہ اختیار یا دلچسپی حاصل ہو سکتی ہے کہ وہ اوپن اے آئی جیسے ماڈلز کی ریلیز اور ان کے ضوابط پر مزید غور کرے، جس سے پالیسی اور کاروباری فیصلوں کے درمیان نیا تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے اس تصور پر پہلے بھی بات کی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو عوامی سطح پر تقسیم کرنے کے لیے کسی قسم کا “پبلک ویلتھ فنڈ” یا سرمایہ کاری ماڈل بنایا جا سکتا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق تجویز میں یہ بھی شامل ہے کہ مستقبل میں دیگر اے آئی کمپنیوں سے بھی اسی نوعیت کا حصہ لیا جا سکتا ہے، اور اس سرمایہ کو عوامی اکاؤنٹس جیسے مجوزہ “ٹرمپ اکاؤنٹس” یا دیگر مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے شہریوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بحث اس بڑے سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کا عروج صرف نجی کمپنیوں کی ملکیت رہے گا یا اس کے منافع میں ریاست اور عام شہریوں کو بھی حصہ دیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید