خلیج میں جنگی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، امریکی حملے کے بعد ایران اور امریکا براہ راست تصادم کے قریب

خلیج میں جنگی کشیدگی میں خطرناک اضافہ، امریکی حملے کے بعد ایران اور امریکا براہ راست تصادم کے قریب

خلیج کے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب امریکا نے ایران پر ڈرون حملوں کے جواب میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں کی طرف ڈرون بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی فوجی کمان کے مطابق ایران نے چند ڈرونز سمندری تجارتی راستوں کی طرف روانہ کیے جنہیں امریکی افواج نے مار گرایا۔ اس کے بعد جوابی کارروائی میں ایران کے ساحلی ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گورک اور قشم جزیرے کے علاقے شامل ہیں جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ڈرونز خطے میں بحری ٹریفک کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے تھے، جس کے بعد خطے کی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر فوری کارروائی کی گئی۔ اس سے قبل خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام نے بھی کچھ میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت محدود میزائل ذخیرہ باقی رہ گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر ایران نے خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط بھی سخت کر دی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی معاہدے کے لیے اسرائیل کو لبنان سے انخلا کرنا ہوگا، جبکہ ایران اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خطے کو ایک ایسے مرحلے میں لے جا رہی ہے جہاں محدود جھڑپیں کسی بڑے اور کھلے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی عسکری کشیدگی کے عالمی منڈیوں پر فوری اور شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا بحران انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے، اور اگر سفارتی کوششیں فوری طور پر کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید