امریکہ میں گھر خریدنا اب بھی خواب، اوسط مکان کے لیے سالانہ تقریباً $110 ہزار آمدنی درکار
امریکہ میں گھر خریدنا اب بھی خواب، اوسط مکان کے لیے سالانہ تقریباً $110 ہزار آمدنی درکار
امریکہ میں رہائشی بحران بدستور برقرار ہے اور عام امریکی خاندان کے لیے گھر خریدنا اب بھی ایک بڑا مالی چیلنج بنا ہوا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق 2026 میں امریکہ میں ایک عام گھر خریدنے کے لیے ایک خاندان کو سالانہ تقریباً $110 ہزار آمدنی درکار ہے تاکہ وہ اپنی آمدنی کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ رہائشی اخراجات پر خرچ نہ کرے۔
رئیل اسٹیٹ کمپنی ریڈفن کی تازہ رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں امریکہ کے درمیانی قیمت والے گھر کو خریدنے کے لیے ایک گھرانے کی مطلوبہ سالانہ آمدنی $109,796 بنتی ہے۔
یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تبدیل نہیں ہوئی۔ ایک سال پہلے یہی ضرورت $110,382 سالانہ تھی، یعنی صرف معمولی کمی آئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رہائش کی استطاعت میں بہتری کے دعووں کے باوجود عام خریدار کے لیے صورتحال بنیادی طور پر مشکل ہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بلند شرحِ سود، مکانات کی بلند قیمتوں اور محدود سپلائی نے گھر خریدنے والوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ اگرچہ بعض علاقوں میں قیمتوں میں استحکام یا معمولی کمی دیکھی گئی، لیکن مجموعی طور پر امریکی ہاؤسنگ مارکیٹ اب بھی کئی خاندانوں کی آمدنی سے آگے ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلے کی بڑی وجوہات میں رہائشی یونٹس کی کمی، تعمیراتی لاگت میں اضافہ، بلند مارگیج شرحیں اور بڑے شہروں میں مسلسل بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔
یہ صورتحال خاص طور پر نوجوان نسل اور پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے زیادہ مشکل ہے، کیونکہ انہیں نہ صرف بلند قیمتوں بلکہ ابتدائی ڈاؤن پیمنٹ جمع کرنے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔
امریکہ میں گھر کو طویل عرصے تک متوسط طبقے کی مالی استحکام کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن موجودہ صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا ملک کا روایتی “اپنا گھر” کا خواب اب صرف زیادہ آمدنی رکھنے والوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے


