امریکا میں امیگریشن حیثیت کھونے کے خطرے سے دوچار ہزاروں ہیٹی اور شامی شہریوں کے لیے کینیڈا آسان راستہ نہیں، وکیل
امریکا میں امیگریشن حیثیت کھونے کے خطرے سے دوچار ہزاروں ہیٹی اور شامی شہریوں کے لیے کینیڈا آسان راستہ نہیں، وکیل
ٹورنٹو: امریکا میں عارضی تحفظ کے تحت رہنے والے ہزاروں ہیٹی اور شامی شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر ان کی امیگریشن حیثیت ختم ہوئی تو ان کے لیے کینیڈا منتقل ہونا کوئی آسان حل نہیں ہوگا۔ امیگریشن وکلا کے مطابق کینیڈا میں داخلے کے لیے بھی سخت قوانین اور شرائط موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بعض غیر ملکی شہریوں کے لیے عارضی تحفظ (Temporary Protected Status – TPS) یا دیگر عارضی امیگریشن سہولتوں میں تبدیلیوں کے بعد کئی خاندان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد میں سے بہت سے لوگ کئی برسوں سے امریکا میں رہ رہے ہیں، کام کر رہے ہیں اور ان کے خاندان وہیں آباد ہیں۔
امیگریشن ماہرین کے مطابق کینیڈا میں پناہ، مستقل رہائش یا دیگر امیگریشن راستے موجود ہیں، لیکن ہر درخواست گزار کو اپنی صورتحال، قانونی حیثیت، مالی حالات اور دیگر شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ صرف امریکا میں حیثیت ختم ہونے کی وجہ سے کینیڈا میں خودکار داخلہ نہیں مل جاتا۔
ہیٹی اور شام سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر انہیں امریکا چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو انہیں ایک نئے ملک میں دوبارہ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے طویل عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ وکلا نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کو فیصلے کرنے سے پہلے قانونی مشورہ لینا چاہیے


