چین کے سامنے جھکیں نہیں، امریکہ پر انحصار بھی نہ کریں، بھارت کو اپنی اسٹریٹیجک خود مختاری برقرار رکھنی ہوگی: ششی تھرور
چین کے سامنے جھکیں نہیں، امریکہ پر انحصار بھی نہ کریں، بھارت کو اپنی اسٹریٹیجک خود مختاری برقرار رکھنی ہوگی: ششی تھرور
نئی دہلی — کانگریس رہنما اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی بدلتی ہوئی اور غیر یقینی پالیسیوں کے باعث بھارت کو اپنی خارجہ حکمت عملی پر نظرثانی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک ایسے پڑوسی چین کے قریب چلا جائے جو اس کے مفادات کے لیے ایک فعال چیلنج ہے۔
ششی تھرور نے اپنے مضمون میں لکھا کہ واشنگٹن کو ایک غیر قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھنے کا احساس بھارت کو بیجنگ کی طرف بڑھنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت کو دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے اپنی آزاد پالیسی برقرار رکھنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، جن میں اسٹیل اور ایلومینیم پر اضافی محصولات، بھارت کو حاصل تجارتی سہولتوں میں کمی، پاکستان کے ساتھ دوبارہ قریبی تعلقات اور ایچ ون بی ویزا قوانین میں سختی جیسے اقدامات شامل ہیں، نے نئی دہلی میں اسٹریٹیجک تشویش پیدا کی ہے۔
تھرور کے مطابق امریکہ کے رویے میں غیر یقینی صورتحال نے بھارت میں ان آوازوں کو مضبوط کیا ہے جو چین کے حوالے سے نئی حکمت عملی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ چین بھارت کو برابری کا شراکت دار نہیں سمجھتا اور نہ ہی وہ بھارت کو ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرتا دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں محتاط رویہ ضروری ہے کیونکہ سرحدی تنازعات، علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی طاقت کے توازن کے معاملات میں دونوں ممالک کے مفادات کئی جگہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
ششی تھرور کے مطابق بھارت کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ نہ تو امریکہ پر مکمل انحصار کرے اور نہ ہی چین کے دباؤ میں آئے، بلکہ اپنی معاشی، دفاعی اور سفارتی طاقت کو بڑھا کر ایک آزاد اسٹریٹیجک کردار ادا کرے


