طلبہ تحریک نے مودی حکومت کو کتنا نقصان پہنچایا؟ کیا یہ بھارت کی سیاست کا نیا موڑ بن سکتی ہے؟
طلبہ تحریک نے مودی حکومت کو کتنا نقصان پہنچایا؟ کیا یہ بھارت کی سیاست کا نیا موڑ بن سکتی ہے؟
تجزیہ : آفاق فاروقی
نیوریاک : بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نام سے شروع ہونے والی طلبہ تحریک نے چند ہفتوں میں ایک چھوٹے احتجاج سے بڑھ کر ایک بڑے سیاسی دباؤ کی شکل اختیار کر لی ہے، عالمی میڈیا اور بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک نے مودی حکومت کی سب سے مضبوط سیاسی تصویر یعنی “ہر احتجاج کو قابو کر لینے والی حکومت” کو پہلی بار چیلنج کیا ہے
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے ابھی مودی حکومت کے لیے انتخابی یا اقتدار کے لئیے خطرہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس اب بھی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، وسیع عوامی حمایت اور پارلیمانی طاقت موجود ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ تحریک چند ہفتوں کا احتجاج رہتی ہے یا نوجوانوں کے اندر موجود وسیع تر بے چینی کی علامت بن جاتی ہے
حکومت کی کمزوری کہاں نظر آئی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کی سب سے بڑی مشکل یہ بنی کہ یہ احتجاج صرف ایک امتحانی معاملے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے تین بڑے عوامی مسائل کو جوڑ دیا
- روزگار کا بحران
- امتحانی نظام پر اعتماد کا مسئلہ
- حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ
رائٹرز نے اپنے ایک تجزیے میں کہا ہے کہ اس تحریک نے اپوزیشن کو مودی حکومت کے خلاف ایک نادر موقع فراہم کیا، کیونکہ نوجوانوں کے مسائل ایسے موضوعات ہیں جن پر حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی، مگر کہہ کہنا کہُ
حکومت گھبرا گئی؟
کئی بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ احتجاج کی رفتار نے اسے ضرور حیران کیاہے
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی سیاسی تجزیہ کار نیرجا چودھری کے مطابق یہ تحریک اس بات کا پیغام ہے کہ ایک نوجوان اور خواہش مند ملک میں حکومت کو سڑکوں پر اٹھنے والی آوازوں کو سننا پڑے گا۔
اسی طرح دی پرنٹ میں معروف مبصر ویر سنگھوی لکھتے ہیں کہ یہ احتجاج روایتی سیاسی تحریکوں جیسا نہیں، بلکہ ایک ایسی نئی قسم کی نوجوان تحریک ہے جس سے حکومت کے نمٹنے کا روایتی طریقہ آسان ثابت نہیں ہوگا، اسی تناظر میں یہ سوال
کیا یہ تحریک پھیل سکتی ہے؟یہاں
تجزیہ کاروں کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہے، پہلا یہ کہ
حکومت اسے وقت کے ساتھ ختم کر سکتی ہے
اس سوچ کے مطابق بھارت میں بڑی تحریکیں اکثر اس وقت کمزور ہو جاتی ہیں جب قیادت واضح نہ ہو، مطالبات بہت وسیع ہو جائیں، روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے
حکومت نے بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت مذاکرات، فاسٹ ٹریک عدالتوں اور اصلاحات کے اعلانات کیے ہیں،
دوسرا یہ کے
یہ ایک بڑے نوجوان سیاسی رجحان کی ابتدا ہو سکتی ہے
سنگاپور کے انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے تجزیہ کار رونوجوئے سین کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں ایک مذاق یا علامتی مہم سمجھی جا رہی تھی، لیکن اب اس نے حکومت کو تعلیمی نظام اور نوجوانوں کے مسائل پر جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے،
مودی کی عوامی مقبولیت پر کوئ اثر پڑا ہے ؟ اس تحریک سے
ابھی تک ایسا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ اس تحریک نے مودی کی مجموعی عوامی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا ہو، مودی کی سیاسی طاقت صرف نوجوانوں کے ووٹ پر نہیں بلکہ قومی سلامتی کے بیانیے، فلاحی منصوبوں ،مضبوط پارٹی تنظیم،ہندو قوم پرستی کے سیاسی بیانیے
پر بھی قائم ہے
لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ نوجوان ووٹر، جو بھارت کی آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں، اگر مسلسل روزگار، امتحانات اور مواقع کے مسائل پر ناراض رہے تو یہ مستقبل کی سیاست میں اہم تبدیلی لا سکتا ہے
آنے والے دنوں میں تین ممکنہ راستے
پہلا، حکومت کچھ اصلاحات کا اعلان کر کے تحریک کو ٹھنڈا کر دے گی
دوسرا،اگر مزید واقعات، گرفتاریاں یا سخت کارروائیاں ہوئیں تو تحریک دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے
تیسرا، یہ تحریک فوری سیاسی انقلاب نہ بھی لائے، لیکن 2029 کے انتخابات تک نوجوانوں کے مسائل کو مرکزی انتخابی موضوع بنا سکتی ہے
یہ تحریک مودی حکومت کے خاتمے کا خطرہ نہیں، لیکن یہ ضرور ایک سیاسی انتباہ ہے کہ بھارت کی نئی نسل صرف ترقی کے دعووں سے مطمئن نہیں، بلکہ شفافیت، روزگار اور جواب دہی بھی چاہتی ہے،مودی حکومت کے لیے اصل امتحان احتجاج ختم کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا ہے


