فضل الرحمان کے نئے میثاقِ جمہوریت کی حمایت، پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد متفق، آئین کی بالادستی، سیاسی آزادیوں اور گورنر راج کے خاتمے کا مطالبہ
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز کو تحریکِ انصاف اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے،اپوزیشن جماعتوں نے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کے تحفظ اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے پر زور دیا ہے،تاہم نئے میثاقِ جمہوریت کی حتمی شرائط اور نکات پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے
مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ ملک کو غیر آئینی اقدامات اور تشدد سے بچانے کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کریں،ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر تصادم چاہتی ہے تو اپوزیشن بھی مقابلے کے لیے تیار ہے، لیکن حالات اس نہج پر نہیں پہنچنے چاہئیں کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک میز پر بیٹھنا بھی ممکن نہ رہے،انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی ملکیت نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ملک ہے
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ آئینی دفعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے،انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج ضروری سمجھا گیا تو بلوچستان میں ایسا اقدام کیوں نہیں کیا گیا،ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور باہمی مفاہمت میں تلاش کیا جانا چاہیے
نئے میثاقِ جمہوریت کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے بیانات اور ملاقاتوں کی تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد آئین کی بالادستی، عوام کے حقِ حکمرانی، جمہوری اداروں کے تحفظ، سیاسی آزادیوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے،تاہم انتخابی نظام، پارلیمان اور دیگر ریاستی اداروں کے اختیارات، حکومتوں کی تشکیل، سیاسی مداخلت کی روک تھام اور آئینی خلاف ورزیوں کے ازالے سے متعلق کوئی مکمل اور حتمی تحریری مسودہ ابھی عوام کے سامنے نہیں آیا،اس لیے ان امور کو طے شدہ شرائط کے بجائے مجوزہ میثاق کے ممکنہ موضوعات سمجھنا چاہیے
مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے بھی اصولی اتفاق کیا ہے،تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر کے مطابق نئے میثاقِ جمہوریت کے معاملے پر پیش رفت کی جا سکتی ہے، جبکہ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس کی شرائط باہمی مشاورت سے طے کی جائیں گی اور تمام متعلقہ سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی
اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے وفد کے ہمراہ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات بھی کی، جس میں ملک کی سیاسی صورت حال، آئینی و جمہوری معاملات اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال ہوا،ملاقات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے اسے عوام کی حاکمیت کے اصولوں کے منافی قرار دیا،شرکا نے گرفتار وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے معاملے پر تشویش ظاہر کی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا
ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر بھی مشاورت ہوئی،ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعتیں نومبر کے دوسرے ہفتے میں وسیع تر سیاسی مشاورت کے ذریعے نئے میثاقِ جمہوریت کے خدوخال طے کرنے کی خواہش مند ہیں، جبکہ 9 یا 10 نومبر کو کانفرنس بلانے کی تاریخیں بھی زیرِ غور آئی ہیں،تاہم حتمی تاریخ اور کانفرنس کے ایجنڈے کا اعلان ہونا باقی ہے۔
تحریکِ انصاف کے وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر ڈوگر اور زین قریشی شامل تھے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس زہری اور عثمان بادینی شریک ہوئے
نئے میثاقِ جمہوریت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں محض اصولی حمایت تک محدود رہتی ہیں یا آئین کی بالادستی، انتخابی شفافیت، پارلیمان کے اختیار، سیاسی آزادیوں اور ریاستی اداروں کے آئینی کردار کے بارے میں قابلِ عمل اور تحریری اتفاقِ رائے بھی پیدا کر پاتی ہیں،فی الحال اپوزیشن کی حمایت ایک اہم سیاسی پیش رفت ہے، لیکن میثاق کی حتمی شرائط، اس پر دستخط کرنے والی جماعتوں اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے






