غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف نیدرلینڈز کا یوروویژن 2027 کے بائیکاٹ کا فیصلہ، اسرائیل کی شرکت پر شدید اختلافات
نیدرلینڈز نے اسرائیل کی شرکت پر پیدا ہونے والی حساس صورت حال اور عوامی اختلافات کے باعث یوروویژن گیتوں کے مقابلے 2027 میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے این پی او نے 27 اکتوبر کو اعلان کیا کہ نیدرلینڈز آئندہ مقابلے میں اپنا فنکار نہیں بھیجے گا یہ فیصلہ گزشتہ ماہ مقابلے میں دوبارہ شرکت کرنے کے اعلان سے واضح پسپائی ہے
این پی او کے میڈیا ڈائریکٹر یورے بوسمین کے مطابق اسرائیل کی شرکت نیدرلینڈز کے معاشرے میں مختلف ردعمل پیدا کر رہی ہے اور اس معاملے پر بحث اور اختلافات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ نشریاتی اداروں کی کونسل سے مشاورت کے بعد 2027 کے مقابلے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
این پی او کی سربراہ جیٹ ڈی رینٹز نے کہا کہ یہ فیصلہ نیدرلینڈز میں یوروویژن کے شائقین کے لیے مایوس کن ہو سکتا ہے، تاہم ادارے کے لیے موجودہ حالات میں شرکت کا مناسب انتظام کرنا ممکن نہیں رہا انہوں نے واضح کیا کہ نیدرلینڈز میں مقابلہ ٹیلی وژن پر نشر کیا جاتا رہے گا، لیکن ملک کی جانب سے کوئی گلوکار یا گلوکارہ مقابلے میں حصہ نہیں لے گا
نیدرلینڈز کے اس فیصلے کے پیچھے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور یوروویژن میں اسرائیل کی شرکت پر جاری اختلافات اہم عوامل ہیں یوروویژن کے منتظم یورپی نشریاتی اتحاد نے اسرائیل کو مقابلے میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جس پر کئی یورپی ممالک کے نشریاتی اداروں نے اعتراض کیا ناقدین کا مؤقف ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور انسانی بحران کے دوران اسرائیل کی شرکت مقابلے کی غیر سیاسی حیثیت پر سوال اٹھاتی ہے دوسری جانب منتظمین مقابلے کو موسیقی اور ثقافتی رابطے کا بین الاقوامی پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں
نیدرلینڈز کے سرکاری نشریاتی ادارے اے وی آر او ٹی آر او ایس نے اگست میں ہی اسرائیل کی شرکت پر اعتراض کرتے ہوئے مقابلے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد ستمبر میں این پی او نے کہا کہ وہ متبادل انتظامات کے ذریعے 2027 میں نیدرلینڈز کی شرکت یقینی بنانے کی کوشش کرے گا تاہم اس فیصلے پر ملک کے اندر تنقید ہوئی اور این پی او کے تقریباً 400 ملازمین نے ایک خط پر دستخط کرکے ادارے سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا بالآخر کسی نشریاتی ادارے نے نیدرلینڈز کی نمائندگی کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کی، جس کے بعد این پی او نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا
یہ تنازع صرف نیدرلینڈز تک محدود نہیں آئرلینڈ نے بھی اسرائیل کی شرکت پر اعتراض کرتے ہوئے 2027 کے مقابلے سے الگ رہنے کا اعلان کیا ہے اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے کی قیادت نے بھی بائیکاٹ کی حمایت کی ہے، جبکہ چیک جمہوریہ نے مالی اخراجات میں کمی کو مقابلے سے الگ ہونے کی وجہ قرار دیا ہے
2026 کے یوروویژن مقابلے میں بھی نیدرلینڈز، آئرلینڈ، آئس لینڈ، اسپین اور سلووینیا نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف بائیکاٹ کیا تھا اس مقابلے کے ناظرین کی تعداد تقریباً 13 کروڑ 10 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 کروڑ 50 لاکھ کم تھی تاہم ناظرین کی تعداد میں کمی کی واحد وجہ بائیکاٹ کو قرار نہیں دیا جا سکتا
یوروویژن کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ نیدرلینڈز کے فیصلے پر افسوس کرتے ہیں، تاہم وہ ملک میں پائے جانے والے اختلافات اور خدشات کا احترام کرتے ہیں منتظمین کے مطابق مقابلے کا مقصد مختلف ممالک کے لوگوں کو موسیقی اور ثقافت کے ذریعے قریب لانا ہے
2027 کا یوروویژن مقابلہ بلغاریہ کے ساحلی شہر برگاس میں 15 مئی کو منعقد ہونا ہے نیدرلینڈز کی عدم شرکت کے باوجود مقابلہ ملک میں ٹیلی وژن پر دکھایا جائے گا یہ ملک 1956 میں ہونے والے پہلے یوروویژن مقابلے سے اس کا حصہ رہا ہے اور اب تک 5 مرتبہ یہ مقابلہ جیت چکا ہے اس کی تازہ ترین فتح 2019 میں گلوکار ڈنکن لارنس کے گیت ’’آرکیڈ‘‘ کے ذریعے ہوئی تھی
نیدرلینڈز کے تازہ فیصلے نے یوروویژن کے منتظمین کے لیے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اسرائیل کی شرکت پر اختلافات کے باوجود مقابلے کو بین الاقوامی ثقافتی تقریب کے طور پر کیسے برقرار رکھا جائے فی الحال این پی او نے شرکت سے انکار کیا ہے، لیکن مستقبل میں واپسی کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا






