اسرائیل: یہودیوں نےجمہوریت کی نئی تاریخ رقم کردی، ووٹنگ کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئےاسرائیل کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح نے غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا ہے،مرکزی انتخابی کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق منگل 27 اکتوبر کو شام 4 بجے تک 55.7 فیصد اہل ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے تھے، جبکہ شام 6 بجے تک یہ شرح بڑھ کر 66.7 فیصد ہو گئی،یہ اعدادوشمار 2022 کے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں اور ابتدائی ووٹنگ کے ریکارڈ ٹوٹنے کی نشاندہی کرتے ہیںرائٹرز کے مطابق پولنگ کا مقررہ وقت صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک تھا،اس طرح ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 15 گھنٹے مقرر کیے گئے تھے،انتخابی حکام نے واضح کیا کہ اگر رات 10 بجے بھی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹ ڈالنے کے انتظار میں لوگ قطاروں میں موجود ہوں تو انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے متعلقہ اسٹیشنوں پر پولنگ جاری رکھی جا سکتی ہے،اس لیے مقررہ وقت پر پولنگ بند ہونے اور تمام ووٹ ڈالے جانے کے وقت میں فرق ممکن تھا2022 کے انتخابات میں شام 4 بجے تک 47.5 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے، جبکہ اس مرتبہ اسی وقت شرح 55.7 فیصد رہی،یوں 8.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا،دوپہر 2 بجے تک ٹرن آؤٹ 44.9 فیصد تھا، جو 2022 کے اسی وقت کے 38.9 فیصد کے مقابلے میں 6 فیصد پوائنٹس زیادہ تھا،انتخابی کمیشن کے مطابق شام 6 بجے تک 66.7 فیصد ووٹنگ ہو چکی تھی، جبکہ 2022 میں اس وقت شرح 57.7 فیصد تھیانتخابی ماہرین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ووٹروں کی غیر معمولی شرکت سے مختلف سیاسی جماعتوں اور انتخابی اتحادوں کی نشستوں پر کیا اثر پڑے گا،تاہم زیادہ ٹرن آؤٹ بذات خود کسی ایک سیاسی اتحاد کی کامیابی کا ثبوت نہیں ہے،سابق وزیر اعظم نیتن یاہو کے سابق معاون اور پولنگ ماہر مچل باراک نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ووٹنگ کی شرح بہت بلند ہے اور ان کے خیال میں یہ 1973 کے تاریخی ریکارڈ سے بھی آگے جا سکتی ہے،ان کے مطابق زیادہ ووٹنگ سے انتخابی حد عبور کرنے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے، جس سے چھوٹی جماعتوں کے لیے پارلیمان میں داخلہ مشکل ہو سکتا ہےاگر شام 4 بجے کے 55.7 فیصد ٹرن آؤٹ کو بنیاد بنایا جائے تو رات 10 بجے تک شرح میں مزید اضافہ متوقع تھا، کیونکہ اس وقت پولنگ ختم ہونے میں ابھی 6 گھنٹے باقی تھے،شام 6 بجے تک یہ شرح 66.7 فیصد ہو چکی تھی،اس رفتار کی بنیاد پر 70 فیصد یا اس سے زیادہ حتمی ٹرن آؤٹ ایک ممکنہ اندازہ ہو سکتا تھا، لیکن اسے کسی انتخابی ادارے کی مصدقہ پیش گوئی یا حتمی نتیجہ نہیں کہا جا سکتا،دستیاب رپورٹوں میں رات 10 بجے تک کا مصدقہ قومی ٹرن آؤٹ ابھی سامنے نہیں آیا تھایہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد اسرائیل کے پہلے عام انتخابات ہیں، جن میں نیتن یاہو کی سیاسی بقا اور ان کے مخالفین کی جانب سے اقتدار کی تبدیلی کی کوشش اہم موضوعات ہیں،پولنگ بند ہونے کے بعد اسرائیلی ٹیلی وژن چینلوں کے ایگزٹ پول ابتدائی اندازے پیش کرنے والے تھے، جبکہ رائٹرز کے مطابق حتمی گنتی 30 اکتوبر تک متوقع تھی اور سرکاری نتائج 4 نومبر کو شائع ہونے تھے،چونکہ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے عموماً 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے، اس لیے بلند ٹرن آؤٹ کے باوجود نئی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات پر منحصر رہ سکتا ہے






