بھارت میں جمہوریت طاقتوروں کے خونی تماشے میں تبدیل ہورہی ؟
آندھرا پردیش میں اپوزیشن تہس نہیس ، نامزدگی کاغذات پھاڑنے، امیدواروں کو روکنے اور تشدد کی شکایات سپریم کورٹ پہنچ گئیں
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات سے قبل نامزدگی کے عمل کے دوران تشدد، اپوزیشن امیدواروں کو روکنے، کاغذات چھیننے اور پھاڑنے کے درجنوں واقعات سامنے آئے ہیں،ان واقعات نے ریاستی انتخابی کمیشن، پولیس کی غیر جانب داری اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) نے الزام لگایا ہے کہ حکمراں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں اس کے امیدواروں کو نامزدگی جمع کرانے سے روکنے کے لیے دھمکیوں اور تشدد کا سہارا لیا، جبکہ بعض مقامات پر پولیس کی موجودگی میں انتخابی کاغذات پھاڑے گئے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق 21 اور 22 اکتوبر کو ریاست کے متعدد اضلاع میں نامزدگی کے مراکز کے باہر اور سرکاری دفاتر کے اندر کشیدگی اور تشدد کے واقعات پیش آئے،بعض ویڈیوز میں انتخابی کاغذات چھیننے اور پھاڑنے کے مناظر سامنے آئے ہیں،ایک واقعے میں سری ستیہ سائی ضلع کے پینوکونڈا میں ایک شخص کو انتخابی افسر کے دفتر میں داخل ہو کر اپوزیشن امیدوار کے کاغذات چھینتے اور پھاڑتے دیکھا گیا،وائی ایس آر سی پی نے اس شخص کی شناخت ٹی ڈی پی رہنما سبّا ریڈی کے طور پر کی ہے،واقعے کے وقت پولیس اہلکار بھی موجود تھے،
ریاست کے مختلف علاقوں سے خواتین امیدواروں کے ساتھ بدسلوکی، نامزدگی کے کاغذات چھیننے اور انہیں انتخابی دفاتر تک پہنچنے سے روکنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں،تروپتی ضلع کے کوڈورو منڈل میں اپوزیشن امیدوار مدالورو سباراماراجو کو نامزدگی جمع کرانے سے روکنے کا الزام سامنے آیا، جبکہ چتور اور پرکاشم سمیت دیگر اضلاع میں بھی خواتین امیدواروں کے کاغذات پھاڑنے اور انہیں ہراساں کرنے کی اطلاعات شائع ہوئیں،اپوزیشن نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض رہنماؤں اور امیدواروں کو گھروں میں محدود رکھا گیا یا پولیس نے انہیں حراست میں لے کر انتخابی مراکز تک پہنچنے سے روکا،ان الزامات کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے
تشدد کے واقعات کی سنگینی کا اندازہ ریاستی پولیس کے سربراہ کے دفتر سے جاری اعداد و شمار سے بھی ہوتا ہے،23 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نامزدگی کے عمل کے دوران 13 اضلاع میں انتخابی تشدد اور امن و امان کی خلاف ورزی کے 31 واقعات رپورٹ ہوئے،ان میں 22 واقعات تشدد، تصادم یا عوامی نظم و ضبط میں خلل سے متعلق تھے، جبکہ 9 واقعات میں نامزدگی کے کاغذات چھیننے یا پھاڑنے کی شکایات شامل تھیں،مجموعی طور پر 16 مرتبہ انتخابی کاغذات چھیننے، پھاڑنے یا ضائع کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے،بعض جھڑپوں میں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، پتھراؤ ہوا اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے،پولیس کے سربراہ ہریش کمار گپتا نے خبردار کیا کہ تشدد اور دھمکیوں میں ملوث افراد کے خلاف سیاسی وابستگی سے قطع نظر کارروائی کی جائے گی
معاملہ اب سپریم کورٹ آف انڈیا تک پہنچ چکا ہے،وائی ایس آر کانگریس نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے امیدواروں کو نامزدگی جمع کرانے سے روکا گیا اور انتخابی عمل میں سب کو مساوی مواقع نہیں ملے،عدالت نے 21 اکتوبر کو ریاستی انتخابی کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ شکایات اور ویڈیو سمیت دستیاب شواہد کا جائزہ لے، متاثرہ امیدواروں کو موقع دینے پر غور کرے اور نامزدگی مراکز پر مناسب پولیس تعیناتی اور سی سی ٹی وی نگرانی یقینی بنائے،کمیشن نے ابتدائی طور پر ریاست کے تمام 100 شہری بلدیاتی اداروں میں انتخابی عمل روک دیا، جبکہ بعد میں چار شہری اداروں میں نامزدگی کے لیے اضافی مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا
27 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ہر الزام کی الگ الگ چھان بین کے لیے وسیع اور غیرمحدود تحقیقات کا حکم نہیں دیا جا سکتا،عدالت نے انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے عمومی رہنما اصول وضع کرنے اور سی سی ٹی وی ریکارڈ محفوظ رکھنے کے امکان پر غور کیا،عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جن امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں غلط طور پر انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا، وہ مناسب قانونی کارروائی کے ذریعے اپنے دعوے ثابت کر سکتے ہیں،اس طرح عدالت نے شکایات کو نظرانداز نہیں کیا، لیکن تمام الزامات کو ثابت شدہ حقائق بھی قرار نہیں دیا
آندھرا پردیش کی صورت حال بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے،اگر امیدواروں کو نامزدگی جمع کرانے کے لیے تحفظ مانگنا پڑے، انتخابی کاغذات پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں چھینے جانے کی شکایات سامنے آئیں اور انتخابی کمیشن کو عدالتی مداخلت کے بعد کارروائی کرنا پڑے، تو انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کے دن تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ ہر امیدوار کو بغیر خوف، دباؤ اور تشدد کے انتخاب لڑنے کا موقع فراہم کرنا بھی ان کا بنیادی تقاضا ہے
اہم وضاحت: 28 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام بلدیاتی انتخابات اسی دن معمول کے مطابق منعقد ہو رہے ہیں۔ نامزدگیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث شہری بلدیاتی انتخابات کا عمل عدالتی ہدایات کے بعد تبدیل کیا گیا تھا،اس لیے کسی مخصوص بلدیہ میں ووٹنگ کی حتمی تاریخ کے لیے ریاستی انتخابی کمیشن کا تازہ ترین شیڈول دیکھنا ضروری ہے۔






