Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گروسری کی بلند قیمتوں کی وجہ ؟ امریکی فوڈ انڈسٹری کے طاقتور سپلائرز ذمہ دار ؟ حکومت مہنگائ کم کرنے کے لیے مذید مہنگے کام کرنے والی ہے

گروسری کی بلند قیمتوں کی وجہ ؟ امریکی فوڈ انڈسٹری کے طاقتور سپلائرز ذمہ دار ؟ حکومت مہنگائ کم کرنے کے لیے مذید مہنگے کام کرنے والی ہے

امریکہ میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں جنوری 2020 کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد بڑھ چکی ہیں، لیکن اس مہنگائی کا بنیادی سبب صرف سپر مارکیٹیں نہیں بلکہ خوراک کی تیاری، پروسیسنگ اور ترسیل کے نظام میں موجود بڑی کمپنیوں کی مارکیٹ پر گرفت بھی ہے،امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے تجزیے کے مطابق گروسری اسٹورز عموماً صرف 1 سے 3 فیصد منافع کماتے ہیں، جبکہ خوراک بنانے اور فراہم کرنے والی بعض بڑی کمپنیاں اس سے کہیں زیادہ منافع حاصل کرتی ہیں
جریدے کے مطابق کورونا وبا کے دوران سپلائی چین میں خلل، خام مال کی قلت اور پیداواری اخراجات میں اضافے نے قیمتیں بڑھائیں،اس دوران گوشت، انڈوں اور پیک شدہ خوراک کی صنعت سے وابستہ بعض کمپنیوں کے منافع میں بھی نمایاں اضافہ ہوا،اس صورت حال میں چھوٹے گروسری اسٹورز کو بڑی کمپنیوں سے مہنگی قیمتوں پر سامان خریدنا پڑتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے
اس مسئلے کے حل کے لیے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے کہ وفاقی حکومت بڑے پیمانے پر انڈے، دودھ، گوشت، چاول، مونگ پھلی کے مکھن اور دیگر بنیادی غذائی اشیا خرید کر سپلائرز سے کم قیمتیں طے کرے اور یہ سامان شریک گروسری اسٹورز کو فراہم کرے،اس کے بدلے دکانوں کو بچت کا بڑا حصہ صارفین تک منتقل کرنا ہوگا
تجویز پیش کرنے والے کچن ٹیبل پروجیکٹ کے اندازے کے مطابق اس نظام سے ایک عام امریکی خاندان سالانہ تقریباً 315 ڈالر بچا سکتا ہے،تاہم، اس منصوبے پر عمل درآمد، اشیا کی تقسیم، نگرانی اور بڑی کمپنیوں کی ممکنہ مخالفت جیسے مسائل ابھی حل طلب ہیں
اصل سوال یہ ہے کہ جب خوراک کی سپلائی چین میں چند بڑی کمپنیوں کی گرفت قیمتوں کو متاثر کرتی ہے تو کیا حکومت کی اجتماعی خریداری عام امریکی خاندانوں کے لیے واقعی ریلیف فراہم کر سکتی ہے؟ دی اٹلانٹک کے تجزیے کے مطابق اس تجویز میں امکان موجود ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر انتظام، شفاف نگرانی اور بچت صارفین تک پہنچانے پر ہوگا، یہاں ایک دلچسپ مگر فکر انگیز سوال یہ بھی ہے حکومت گروسری کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کرے گی ، سپلائی چین میں مداخلت کرے گی ، اور بڑے فوڈ سپلائرز سے قیمتیں طے کرے خود طے کرے گی ، مگر اس پورے نظام کے بدلے ایک عام امریکی خاندان کو سال بھر میں صرف 315 ڈالر کی بچت ہو سکے گی ، تو اس منصوبے کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے،سالانہ 315 ڈالر کا مطلب مہینے میں صرف 26 ڈالر اور 25 سینٹ، یعنی تقریباً 27 ڈالر کی بچت ممکن ہوسکے گی، کیا اتنی معمولی رقم کے لیے ایک نیا سرکاری ڈھانچہ، اضافی انتظامی اخراجات اور نگرانی کا نظام قائم کرنا واقعی معاشی طور پر معقول ہوگا؟ اس تجویز کا اصل امتحان یہی ہے کہ نئی بیوروکریسی پر کتنی لاگت آئے گی، اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان پر کتنا پڑے گا اور آیا صارفین کو ملنے والی بچت ان اخراجات سے زیادہ بھی ہوگی یا نہیں،اگر حکومت اس سوال کا واضح جواب نہیں دے سکتی تو قیمتیں کم کرنے کی یہ تجویز خود ایک مہنگا تجربہ ثابت ہو سکتی ہے، جو اپنے ابتدا میں ہی ایک غیر منطقی منصوبہ معلوم ہوتا ہے

قومی خبریں سے مزید