اہم ترین انتخابات میں اسرائیلی عوام کی ریکارڈ تعداد میں شرکت، نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے درمیان سخت مقابلہ
اسرائیل میں ہونے والے اہم انتخابات میں اب تک ووٹ ڈالنے کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے،ان انتخابات کو ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے درمیان وزارت عظمیٰ کے لیے سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی ہے
جمعہ کو شائع ہونے والے انتخابی جائزوں کے مطابق دونوں رہنما وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں تقریباً برابر دکھائی دے رہے ہیں،تاہم، کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمان کی 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے درکار کم از کم 61 نشستیں حاصل ہونے کی پیش گوئی نہیں کی گئی،اس صورت حال میں حکومت سازی کے لیے کئی ہفتوں یا مہینوں تک سیاسی مذاکرات اور جوڑ توڑ جاری رہنے کا امکان ہے
انتخابی مہم میں جمہوریت اور قومی سلامتی کے معاملات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر نیتن یاہو کی حکمرانی پر عوامی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،ان کی حکومت کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی سیاسی سمت بھی ان نتائج سے متاثر ہو سکتی ہے
منگل کی صبح کئی بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کیں،تاہم، اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے کہا کہ بیلٹ پیپرز میں منظم طور پر ردوبدل کیے جانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں
اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت کسی ایک جماعت کے لیے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے،اسی وجہ سے اسرائیل میں حکومتیں عموماً مختلف جماعتوں کے اتحاد سے بنتی ہیں،اقتدار کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان غیر متوقع اتحاد بھی ماضی میں سامنے آتے رہے ہیں، لیکن موجودہ انتخابات میں مقابلہ غیر معمولی طور پر سخت دکھائی دے رہا ہے اور کئی سیاسی رہنماؤں نے پہلے ہی اپنے اتحادوں اور ممکنہ شراکت داریوں کے حوالے سے واضح حدود مقرر کر دی ہیں
گادی آئزنکوٹ، جو نئی قائم ہونے والی یاشار پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں، اس انتخابی مقابلے کی اہم شخصیات میں شامل ہیں،ان کی سیاسی مہم نیتن یاہو کے مقابلے میں ایک متبادل قیادت پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے
انتخابی نتائج نہ صرف وزارت عظمیٰ کا فیصلہ کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی قیادت، جمہوری اداروں اور قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں،تاہم، کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت ملنے کے امکانات محدود دکھائی دینے کے باعث انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے





