Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

تہران مذاکرات: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایران کے ساتھ پیش رفت، آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے جنگ بندی معاہدے کی راہ نکالنے کی کوشش

تہران مذاکرات: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی ایران کے ساتھ پیش رفت، آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکہ سے جنگ بندی معاہدے کی راہ نکالنے کی کوشش

تہران، 26 اکتوبر 2026: ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان تہران میں ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و سلامتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے،اجلاس میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کی،یہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک اور ایران کے درمیان موجودہ بحران کے دوران اعلیٰ سطح کا ایک اہم رابطہ تھا،تاہم اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں امریکہ کے ساتھ کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا
مذاکرات کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ پاکستان اور قطر کئی ماہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تہران میں ہونے والے اجلاس میں علاقائی عدم جارحیت کا نظام قائم کرنے، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے، سعودی عرب پر حوثی حملوں کو روکنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی جیسے معاملات زیر بحث آئے،ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایسا ممکنہ حل پیش کیا جس میں واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابل قبول شرائط شامل ہو سکتی ہیں،تاہم اس تجویز کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں
رائٹرز کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ اگر مجوزہ حل پر اتفاق ہو جاتا ہے تو مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک اور قطر اس کے ضامن کا کردار ادا کر سکتے ہیں،اس تجویز کی اہمیت یہ ہے کہ پاکستان اور قطر پہلے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر چکے ہیں،جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، لیکن چند ہفتوں بعد لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی تھی،اس لیے موجودہ کوششوں کا اصل امتحان کسی ابتدائی مفاہمت کے اعلان کے بجائے ایسی شرائط پر اتفاق کرنا ہوگا جن پر دونوں فریق عملی طور پر عمل بھی کریں
مذاکرات میں سب سے اہم اختلاف آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کے معاملے پر ہے،ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے، اس کے بعد وسیع تر مذاکرات کی راہ کھل سکتی ہے،ایران نے پاکستان کے ذریعے یہ پیشکش بھی پہنچائی تھی کہ اگر واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے تیار ہے،دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنے جوہری افزودگی کے پروگرام میں کمی کرنا ہوگی۔ یوں دونوں جانب بنیادی شرائط پر اختلاف ابھی برقرار ہے
ایران نے واضح کیا ہے کہ تہران میں ہونے والی چار ملکی ملاقات کا بنیادی موضوع علاقائی سلامتی تھا، نہ کہ ایران کے جوہری پروگرام پر براہ راست مذاکرات،ایرانی حکام کے مطابق جوہری معاملے پر بات چیت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک جنگ کے خاتمے سے متعلق تہران کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سفارتی کوششوں میں پہلے جنگ بندی، ناکہ بندی اور علاقائی سلامتی کے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ جوہری تنازع ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں زیر بحث آئے گا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی تعاون اور اسلامی ممالک کے درمیان روابط مضبوط بنانے کی حمایت کی،اجلاس کے بعد ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی گفتگو کے ماحول کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ خطے میں ایک نئی فضا بنتی محسوس ہو رہی ہے،تاہم ان بیانات کو کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا،چاروں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں صرف اس بات پر اتفاق کا ذکر ہے کہ علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں گے
اس سفارتی سرگرمی کے پیچھے خطے میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خطرہ بھی موجود ہے،امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کے امکان کا اشارہ دیا ہے،دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ کے سعودی عرب کے خلاف حملوں اور سعودی کارروائیوں نے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل اور گیس کی قیمتوں اور خلیجی ممالک کی سلامتی پر بھی دباؤ بڑھایا ہے
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی اس صورت حال کا ایک اہم پہلو ہے،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد مشترکہ دفاع اور سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانا ہے،اس کے باوجود ان ممالک کی ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ علاقائی دفاعی تعاون کے ساتھ سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں،سعودی عرب نے بھی مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ موجودہ بحران میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل تلاش کرنے اور جنگ کی دوبارہ شدت کو روکنے کے لیے مذاکراتی راستے کھولنا ضروری ہے
مجموعی طور پر تہران اجلاس کو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی ڈیل طے پا گئی ہے یا معاہدہ ہونے والا ہے،اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور پابندیوں پر اپنے مؤقف میں نرمی دکھاتا ہے، تہران آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام کے معاملات پر قابل قبول لچک دکھانے کے لیے تیار ہوتا ہے، اور پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ ان اختلافات کو کسی قابل عمل معاہدے میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں،اگر ان معاملات پر پیش رفت ہوئی تو تہران کی یہ ملاقات وسیع تر جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، لیکن فی الحال اس کا واضح نتیجہ مذاکرات جاری رکھنے کا اتفاق ہے، نہ کہ کسی طے شدہ امریکی ایرانی ڈیل کا اعلان

قومی خبریں سے مزید