Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، پشین میں اجتماعات پر پابندی، جھل مگسی میں مزید 2 مغوی قتل

بلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز، پشین میں اجتماعات پر پابندی، جھل مگسی میں مزید 2 مغوی قتل

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ضلع پشین میں اجتماعات پر فوری پابندی عائد کر دی ہے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے پشین اور دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دیا حکومت کے مطابق شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اس کی اولین ترجیح ہے
اجلاس میں پشین کے قبائلی عمائدین اور علمائے کرام کے علاوہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر ترین، ارکان اسمبلی سید ظفر آغا اور اسفند یار کاکڑ، محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات، ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، ضلعی پولیس افسر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی
اجلاس میں ضلع کی سکیورٹی صورت حال اور امن و امان برقرار رکھنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا صوبائی وزیر داخلہ نے حکام کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی جائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے مضبوط بنائے جائیں
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں مزید 2 افراد کی لاشیں ملنے کے بعد اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 4 ہو گئی ہے پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت مولوی صادق ابڑو اور لیاقت علی ابڑو کے نام سے ہوئی ہے ان کی لاشیں گھترا کے علاقے میں سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں
پولیس کے مطابق 17 اکتوبر کو 5 افراد کو مسلح افراد نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ گنداوہ سے کھڑی جا رہے تھے یہ واقعہ کوترا تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور مقامی افراد جائے وقوعہ پر پہنچے پولیس نے لاشیں تحویل میں لے کر گنداوہ کے ضلعی اسپتال منتقل کیں، جہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے
ادھر ضلع کچھی کے علاقے سنی میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو قتل کر دیا پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت غازی خان ولد روشن خان جتوئی کے نام سے ہوئی ہے، جو ڈیرہ مراد جمالی کا رہائشی تھا حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاش کو اسپتال منتقل کیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی پولیس نے قتل کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں
پشین میں اجتماعات پر پابندی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں امن و امان کے متعدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جھل مگسی میں 5 افراد کے اغوا اور ان میں سے 4 کی ہلاکت کا واقعہ بھی شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے ان واقعات کی مکمل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا

قومی خبریں سے مزید