Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اونٹاریو کے بلدیاتی انتخابات میں کئی بڑے اپ سیٹ، ہیملٹن میں اینڈریا ہوروَتھ کو شکست، اوک ول، نیاگرا فالز اور ونڈسر میں بھی نئے میئر منتخب

اونٹاریو کے بلدیاتی انتخابات میں کئی بڑے اپ سیٹ، ہیملٹن میں اینڈریا ہوروَتھ کو شکست، اوک ول، نیاگرا فالز اور ونڈسر میں بھی نئے میئر منتخب

اونٹاریو: کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں 26 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں کئی اہم شہروں میں میئر تبدیل ہو گئے، جبکہ متعدد موجودہ میئر اپنی نشستیں برقرار نہ رکھ سکے ہیملٹن میں سابق صوبائی نیو ڈیموکریٹک پارٹی رہنما اینڈریا ہوروَتھ کو شکست ہوئی، اوک ول میں جیف نول نے طویل عرصے سے میئر رہنے والے روب برٹن کو ہرا دیا، نیاگرا فالز میں لوری لوکوکو نے جیمز ڈیوداتی کو شکست دی اور ونڈسر میں فریڈ فرانسس نے موجودہ میئر ڈریو ڈلنز کو پیچھے چھوڑ دیا
انتخابات میں صوبے کے 400 سے زیادہ بلدیاتی اداروں میں شہریوں نے میئرز، کونسلروں اور اسکول بورڈ ٹرسٹیوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے کئی شہروں میں مقامی حکومت کی قیادت تبدیل ہونے سے رہائش، پراپرٹی ٹیکس، سڑکوں کی مرمت، ٹرانزٹ، کاروباری ترقی اور شہری خدمات سے متعلق آئندہ پالیسیوں پر نئی بحث شروع ہو گی۔
ہیملٹن میں میئر کا انتخاب صوبے کے نمایاں مقابلوں میں شامل تھا اینڈریا ہوروَتھ، جو طویل عرصے تک اونٹاریو کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما رہی تھیں، دوسری مدت حاصل نہ کر سکیں کاروباری رہنما کینن لومِس نے کامیابی حاصل کی۔ 2022 کے انتخابات میں ہوروَتھ نے لومِس کو 2,000 سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی، لیکن اس بار انتخابی نتیجہ تبدیل ہو گیا لومِس نے سڑکوں کی مرمت، ٹیکسوں کے عوض بہتر خدمات، معاشی ترقی اور رہائش کو اپنی مہم کے اہم موضوعات بنایا تھا
اوک ول میں جیف نول نے میئر روب برٹن کو شکست دے دی نول وارڈ 5 کے ٹاؤن اور ریجنل کونسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں غیر سرکاری نتائج کے مطابق انہیں 18,680 ووٹ ملے، جو کل ووٹوں کا 36.74 فیصد تھے شان او میرا 22.56 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور روب برٹن 20.13 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے جولیا ہانا کو 17.53 فیصد جبکہ اروِند چودھری کو 3.03 فیصد ووٹ ملے اوک ول کے تمام 47 پولنگ مقامات کے نتائج رات 10 بج کر 10 منٹ تک سامنے آ چکے تھے، تاہم یہ نتائج اس وقت میونسپل کلرک کی حتمی تصدیق کے منتظر تھے
نیاگرا فالز میں لوری لوکوکو نے طویل عرصے سے میئر رہنے والے جیمز ڈیوداتی کو شکست دے دی یہ نتیجہ شہر کی مقامی سیاست میں نمایاں تبدیلی ہے، کیونکہ ڈیوداتی کئی برس سے شہر کی قیادت کر رہے تھے نئے میئر کو سیاحت، کاروباری سرگرمیوں، بنیادی شہری سہولتوں اور رہائشیوں پر مالی دباؤ جیسے معاملات سے نمٹنا ہو گا


ونڈسر میں فریڈ فرانسس نے موجودہ میئر ڈریو ڈلنز کو شکست دی امریکی سرحد کے قریب واقع اس شہر میں گاڑیوں کی صنعت، روزگار، کاروباری سرمایہ کاری، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اہم مقامی مسائل رہے ہیں نئی انتظامیہ کے لیے یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ وہ مقامی کاروبار اور ملازمتوں کے تحفظ کے ساتھ شہری خدمات اور ٹیکسوں کے معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔
کنگسٹن میں کونی گلین نے موجودہ میئر برائن پیٹرسن کو شکست دی۔ کیمبرج میں سٹی کونسلر اسکاٹ ہیملٹن نے موجودہ میئر جان لیگیٹ کو ہرا کر میئر کا انتخاب جیت لیا، جبکہ واٹرلو میں شینن ویبر نے موجودہ میئر ڈوروتھی میک کیب کو شکست دی۔ ان تینوں نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی شہروں میں ووٹروں نے موجودہ قیادت کے بجائے نئے امیدواروں کو منتخب کیا۔
کلیرنگٹن میں سابق پولیس افسر ٹام ڈنگ وال نے موجودہ میئر ایڈرین فوسٹر کو شکست دی۔ٹِمنز میں ریٹائرڈ پولیس افسر روب ناکس نے موجودہ میئر مشیل بوائلاؤ کو ہرا دیا۔ ان نتائج میں مقامی انتظامیہ، عوامی تحفظ اور شہری خدمات سے متعلق انتخابی ترجیحات اہم رہیں، تاہم صرف نتائج کی بنیاد پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ ووٹروں نے کسی ایک مسئلے کی وجہ سے فیصلہ کیا


سینٹ کیتھرینز میں میٹ سسکو نے دوبارہ میئر کا انتخاب جیت لیا، جبکہ اونٹاریو کے مختلف شہروں میں موجودہ میئرز کی کامیابی اور شکست کے ملے جلے نتائج سامنے آئے اس طرح انتخابات میں ایک طرف سیاسی تبدیلی دیکھی گئی اور دوسری طرف بعض شہریوں نے موجودہ قیادت پر اعتماد برقرار رکھا
ان نتائج کے پیچھے اہم شہری مسائل
اونٹاریو کے بلدیاتی انتخابات میں مقامی مسائل مرکزی حیثیت رکھتے ہیں صوبائی سطح کی سیاست کے برعکس میئر اور کونسلر براہ راست ان فیصلوں میں کردار ادا کرتے ہیں جن کا اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے، مثلاً پراپرٹی ٹیکس، سڑکوں کی مرمت، پارکوں کی دیکھ بھال، مقامی ٹرانزٹ، عمارتوں کی تعمیر اور شہری ترقیاتی منصوبے
انتخابی مہمات میں رہائش کی قیمت، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، ٹیکسوں کے مقابلے میں بہتر خدمات فراہم کرنے اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے جیسے موضوعات نمایاں رہے صوبائی حکومت کی جانب سے میئرز کے اختیارات میں اضافے نے بھی کئی شہروں میں انتخابی بحث کو متاثر کیا اس کے علاوہ بعض اسکول بورڈز کی صوبائی نگرانی اور ریجنل چیئرمینوں کی تقرری کے طریقوں میں تبدیلی نے مقامی حکومتوں کے اختیارات اور جواب دہی سے متعلق سوالات اٹھائے
موجودہ میئرز کی شکست کو ہر شہر میں ایک ہی وجہ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا ہر بلدیاتی انتخاب میں امیدواروں کی مقامی ساکھ، سابقہ کارکردگی، انتخابی مہم، شہری مسائل اور ووٹروں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں اس لیے انتخابی نتائج کو سمجھنے کے لیے ہر شہر کے ووٹوں کی تعداد، کامیابی کے فرق اور امیدواروں کے وعدوں کا الگ جائزہ ضروری ہے
نئی انتظامیہ کے سامنے چیلنجز
نتائج کے بعد منتخب میئرز اور کونسلوں کے سامنے اصل امتحان انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینا ہو گا شہری یہ توقع رکھیں گے کہ رہائش اور بنیادی سہولتوں کے مسائل پر پیش رفت ہو، ٹیکسوں کے استعمال میں شفافیت برقرار رہے، سڑکوں اور ٹرانزٹ کے منصوبوں پر کام ہو اور شہری ترقی کے فیصلوں میں عوامی مفادات کو اہمیت دی جائے
ہیملٹن، اوک ول، نیاگرا فالز، ونڈسر، کنگسٹن، کیمبرج اور واٹرلو میں قیادت کی تبدیلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں موجودہ عہدہ اپنے آپ میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا دوسری جانب سینٹ کیتھرینز میں موجودہ میئر کی دوبارہ کامیابی بتاتی ہے کہ بعض شہروں میں ووٹروں نے تسلسل کو ترجیح دی

قومی خبریں سے مزید