Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کا 9 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 26.62 فیصد بڑھ کر 4 ارب 97 کروڑ ڈالر ہو گیا،

پاکستان کا 9 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 26.62 فیصد بڑھ کر 4 ارب 97 کروڑ ڈالر ہو گیا،

اسلام آباد: پاکستان کا 9 پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 26.62 فیصد اضافے کے بعد 4 ارب 97 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ 3 ارب 93 کروڑ ڈالر تھا۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران درآمدات میں نمایاں اضافے اور علاقائی منڈیوں کو برآمدات میں کمی نے پاکستان کے تجارتی توازن پر دباؤ بڑھا دیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو پاکستان کی مجموعی برآمدات 6.72 فیصد کم ہو کر 94 کروڑ 42 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ایک ارب 1 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھیں اس کے برعکس ان ممالک سے درآمدات 19.79 فیصد اضافے کے بعد 5 ارب 92 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال 4 ارب 94 کروڑ ڈالر تھیں
تجارتی خسارے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ چین سے درآمدات میں اضافہ ہے چین سے پاکستان کی درآمدات 19.76 فیصد بڑھ کر 5 ارب 82 کروڑ ڈالر ہو گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ان کی مالیت 4 ارب 85 کروڑ ڈالر تھی چین کو پاکستانی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا اور وہ 17.95 فیصد بڑھ کر 66 کروڑ 35 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کی مالیت بہت کم ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عدم توازن برقرار رہا
اعداد و شمار کے مطابق چین کے ساتھ تجارتی خسارے میں تقریباً 85 کروڑ 88 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو 9 پڑوسی ممالک کے مجموعی تجارتی خسارے میں اضافے کا تقریباً 82 فیصد بنتا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ چین سے درآمدات پاکستان کے علاقائی تجارتی خسارے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں
افغانستان کے ساتھ تجارت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی افغانستان کو پاکستانی برآمدات 88.34 فیصد کم ہو کر صرف ایک کروڑ 88 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 16 کروڑ 17 لاکھ ڈالر سے زیادہ تھیں افغانستان سے درآمدات بھی 94.40 فیصد کم ہو کر تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 45 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان برآمدات سمیت تجارت 10 اکتوبر 2025 سے معطل رہی ہے، جس کے اثرات علاقائی تجارت پر مرتب ہوئے
بنگلہ دیش کو پاکستان کی برآمدات 2.96 فیصد کم ہو کر 17 کروڑ 47 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں ان کی مالیت 18 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی بنگلہ دیش سے درآمدات بھی 36.11 فیصد کم ہو کر ایک کروڑ 38 لاکھ ڈالر رہ گئیں
بھارت کے ساتھ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی درآمدات 68.90 فیصد بڑھ کر 6 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 3 کروڑ 65 لاکھ ڈالر تھیں تاہم جولائی سے ستمبر کے دوران بھارت کو پاکستان کی کوئی برآمدات ریکارڈ نہیں کی گئیں
دوسری جانب نیپال کو پاکستانی برآمدات میں شرح کے لحاظ سے اضافہ ہوا، لیکن ڈالر کی مالیت میں یہ اضافہ محدود رہا چین کے علاوہ دیگر علاقائی منڈیوں میں کمزور برآمدی کارکردگی نے پاکستان کے لیے تجارتی خسارہ کم کرنے کے امکانات محدود کیے
پاکستان کی معیشت کے لیے بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اس لیے اہم ہے کہ درآمدات کی ادائیگی کے لیے زیادہ غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے، جبکہ برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی اس ضرورت کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے اگر درآمدات مسلسل برآمدات سے زیادہ رہیں تو بیرونی ادائیگیوں، ڈالر کی طلب اور مجموعی اقتصادی استحکام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے
تجارتی خسارے میں کمی کے لیے پاکستان کو برآمدی صنعتوں کی پیداوار بڑھانے، علاقائی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، سرحدی تجارت میں رکاوٹیں کم کرنے اور ایسی مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینا ہو گی جن کی عالمی منڈیوں میں طلب موجود ہے تاہم افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی، چین سے درآمدات کے حجم اور دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی سہولتوں میں بہتری بھی اس حوالے سے اہم عوامل ہوں گے
موجودہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی علاقائی تجارت کا توازن مزید بگڑا ہے آئندہ مہینوں میں برآمدات کی رفتار، درآمدات کی طلب اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کی صورت حال طے کرے گی کہ یہ خسارہ کم ہوتا ہے یا ملکی معیشت پر اس کا دباؤ مزید بڑھتا ہے

قومی خبریں سے مزید