Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ، 3 نومبر کے انتخابات میں 7 ریاستیں اہم، ڈیموکریٹس کو 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار

امریکی سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ، 3 نومبر کے انتخابات میں 7 ریاستیں اہم، ڈیموکریٹس کو 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار

واشنگٹن: امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا،ان میں مشی گن، ٹیکساس، الاسکا، اوہائیو، کنساس، مین اور آئیووا سمیت متعدد ریاستوں کے انتخابی نتائج یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ اگلے سال سینیٹ پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہتا ہے یا ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کر لیتے ہیں،اے بی سی نیوز کی سیاسی نامہ نگار ایلیسن پیکورین کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، انتخابات سے ایک ہفتہ قبل کئی اہم ریاستوں میں مقابلے انتہائی سخت ہیں
اس وقت ریپبلکنز کو سینیٹ میں 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے ساتھ شامل 2 آزاد سینیٹرز کی مجموعی تعداد 47 ہے،ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 4 نشستوں کا خالص اضافہ کرنا ہوگا،ریپبلکنز 3 نشستیں کھونے کے باوجود اکثریت برقرار رکھ سکتے ہیں، کیونکہ ووٹ برابر ہونے کی صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس فیصلہ کن ووٹ دے سکتے ہیں
جارجیا میں موجودہ ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کی نشست اور شمالی کیرولائنا میں ریٹائر ہونے والے ریپبلکن سینیٹر تھام ٹِلس کی خالی ہونے والی نشست کے لیے مقابلے بھی اہم رہے ہیں،اے بی سی نیوز کے مطابق، ریپبلکنز نے جارجیا میں اوسوف کو ہرانے کی کوششوں پر توجہ کم کر دی ہے، جبکہ شمالی کیرولائنا میں انتخابی اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے،وہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق گورنر رائے کوپر، ریپبلکن پارٹی کی قومی کمیٹی کے سابق سربراہ مائیکل واٹلی کے خلاف مقابلے میں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں
مشی گن: ترقی پسند امیدوار اور ریپبلکن مائیک راجرز میں مقابلہ
مشی گن میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید سے ہے، جو صحت عامہ کے شعبے میں کام کر چکے ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ایک اعتدال پسند امیدوار کو شکست دے کر نامزد ہوئے،اے بی سی نیوز نے اس مقابلے میں ڈیموکریٹس کو معمولی برتری حاصل ہونے کا اندازہ دیا ہے
راجرز 2024 میں سینیٹ کا انتخاب موجودہ ڈیموکریٹ سینیٹر ایلیسا سلاٹکن سے 20 ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے،اس مرتبہ ریپبلکنز نے عبدال السید کو صحت کے شعبے میں حکومتی کردار بڑھانے اور امیگریشن سے متعلق ان کے مؤقف کی بنیاد پر انتہا پسند قرار دینے کی کوشش کی ہے،ان کی مذہبی اور نسلی شناخت کو بھی انتخابی تنقید کا موضوع بنایا گیا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ’’پرتشدد جہادی‘‘ قرار دیا، جبکہ عبدال السید نے دہشت گرد تنظیموں سے کسی تعلق کی تردید کرتے ہوئے ان بیانات کو اسلام مخالف قرار دیا
عبدال السید نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ان کے مخالفین ان کے نام اور مذہب کو موضوع بنا کر ووٹروں کی توجہ پٹرول اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں سے ہٹانا چاہتے ہیں،دوسری جانب راجرز کا کہنا ہے کہ وہ ایسے یہودی اور سیاہ فام ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں پیش رفت کر رہے ہیں جو عبدال السید کے بعض مؤقف سے متفق نہیں،مشی گن نے گزشتہ 3 صدارتی انتخابات میں سے 2 میں ٹرمپ کی حمایت کی، لیکن 1994 کے بعد ریاست میں ہونے والے ہر سینیٹ انتخاب میں ڈیموکریٹس کامیاب رہے ہیں
ٹیکساس: ریپبلکن پرائمری میں تبدیلی نے ڈیموکریٹس کے لیے موقع پیدا کر دیا
ٹیکساس میں 33 سال سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب نہیں ہوا، لیکن اس مرتبہ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ یہ صورت حال بدل سکتے ہیں،ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے مہنگے انتخابی مقابلے میں طویل عرصے سے سینیٹر جان کارنن کو پرائمری کے دوسرے مرحلے میں شکست دی،پیکسٹن کو ٹرمپ کی آخری مرحلے میں دی گئی حمایت سے فائدہ پہنچا
پیکسٹن پر ماضی میں کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں،2023 میں ان کے خلاف اختیارات کے مبینہ غلط استعمال، رشوت اور بدعنوانی کے الزامات پر مواخذے کی کارروائی ہوئی، لیکن ریاستی سینیٹ نے انہیں بری کر دیا،2015 میں ان پر سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات کے تحت فرد جرم عائد ہوئی تھی،مقدمے کی سماعت سے چند ہفتے قبل انہوں نے استغاثہ کے ساتھ قبل از سماعت معاہدہ کیا، جس کے تحت انہیں کمیونٹی سروس، قانونی اخلاقیات کے کورسز اور 300 ہزار ڈالر ہرجانے کی ادائیگی پر اتفاق کرنا پڑا، تاہم انہیں جرم تسلیم کرنا لازم نہیں تھا
ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو سابق ریاستی قانون ساز اور پریسبیٹیرین مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے رہنما ہیں،ریپبلکنز انہیں بائیں بازو کا انتہا پسند قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں،ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ پیکسٹن کے بارے میں منفی رائے اور مہنگائی کے مسائل انہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں
ریپبلکنز نے اس مقابلے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور ڈیلس میں اپنی پہلی وسط مدتی انتخابی کانفرنس بھی منعقد کی،اے بی سی نیوز کے مطابق، یہ امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی سینیٹ انتخابی دوڑ بن چکی ہے،ایڈ امپیکٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں انتخابی اشتہارات پر 500 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ پیکسٹن کی حمایت کرنے والے بیرونی گروپوں نے ان کے لیے 250 ملین ڈالر سے زیادہ فراہم کیے ہیں،اے بی سی نیوز نے اس مقابلے کو انتہائی سخت قرار دیا ہے
الاسکا: ایک ہی نام کے دو امیدوار، ڈیموکریٹ میری پیلٹولا بھی میدان میں
الاسکا میں ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کو سابق ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس میری پیلٹولا اور اسی نام کے ایک آزاد امیدوار سمیت 3 حریفوں کا سامنا ہے،ریاست کے انتخابی نظام کے تحت پرائمری میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے 4 امیدوار عام انتخابات میں پہنچتے ہیں،پیلٹولا کو اس بات کا فائدہ حاصل ہے کہ وہ عام انتخابات میں پہنچنے والی واحد ڈیموکریٹ امیدوار ہیں
بیلٹ پر ڈین سلیوان نام کا ایک آزاد امیدوار بھی موجود ہے، جبکہ ریپبلکن جیرالڈ ہائیکس بھی مقابلے میں شامل ہیں،چوتھے نمبر پر آنے والے امیدوار کے دستبردار ہونے کے بعد ہائیکس کو عام انتخابات میں جگہ ملی
ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں نے ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ بیلٹ پر درست ڈین سلیوان کا انتخاب کریں،اے بی سی نیوز کے مطابق، 23 اکتوبر کو ٹرمپ نے محکمہ انصاف کو ہدایت دی کہ اگر موجودہ سینیٹر معمولی فرق سے ہار جائیں تو نتائج کی تصدیق روکنے کے لیے پیشگی قانونی کارروائی کی جائے،2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ نے الاسکا میں 13 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی،اے بی سی نیوز نے اس سینیٹ مقابلے کو بھی غیر یقینی قرار دیا ہے
اوہائیو: موجودہ ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن آمنے سامنے
اوہائیو میں ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ اور سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براؤن کے درمیان مقابلہ ہے،ہسٹڈ کو 2025 میں ریاست کے ریپبلکن گورنر مائیک ڈی وائن نے اس نشست پر مقرر کیا تھا جو جے ڈی وینس کے نائب صدر بننے کے بعد خالی ہوئی تھی،یہ انتخاب طے کرے گا کہ 2029 تک وینس کی سابقہ سینیٹ مدت کے باقی حصے کے لیے کون منتخب ہوتا ہے
ہسٹڈ پہلی مرتبہ ریاست بھر کے ووٹروں کے سامنے انتخاب لڑ رہے ہیں،اوہائیو میں حالیہ برسوں کے دوران ریپبلکنز کی حمایت بڑھی ہے، لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں مقامی خدشات نے ان کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں
براؤن 2024 میں ریپبلکن امیدوار برنی مورینو سے تقریباً 4 فیصد پوائنٹس کے فرق سے ہار گئے تھے، لیکن انہوں نے ریاست میں ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس سے بہتر کارکردگی دکھائی تھی،تین مرتبہ سینیٹر رہنے والے براؤن اس مرتبہ محنت کش طبقے کے ان ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو روزمرہ اخراجات میں اضافے سے پریشان ہیں،اے بی سی نیوز نے اس مقابلے کو بھی انتہائی سخت قرار دیا ہے۔
کنساس: تقریباً ایک صدی سے ریپبلکنز کے زیرِ اثر نشست خطرے میں
کنساس میں سینیٹ کا مقابلہ اس سال کے غیر متوقع انتخابی معرکوں میں شامل ہو گیا ہے،ٹرمپ نے 2024 میں یہ ریاست 16 فیصد پوائنٹس کے فرق سے جیتی تھی اور تقریباً ایک صدی سے ریاست کی دونوں سینیٹ نشستیں ریپبلکنز کے پاس رہی ہیں،۰اس کے باوجود موجودہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اس مرتبہ مقابلہ خاصا سخت ہے
مارشل پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور 2020 میں سینیٹ منتخب ہونے سے پہلے ایوانِ نمائندگان کے رکن رہ چکے ہیں،انہوں نے کانگریس میں زیادہ تر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے،ان کے ڈیموکریٹ حریف ایڈم ہیملٹن، جو ملک کی سب سے بڑی یونائیٹڈ میتھوڈسٹ کلیسیا کے پادری ہیں، ووٹروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مارشل کی حمایت یافتہ پالیسیوں نے معاشی مشکلات بڑھائی ہیں
ہیملٹن خود کو آزادانہ سوچ رکھنے والا ڈیموکریٹ قرار دیتے ہیں، جبکہ مارشل نے انہیں کنساس کی نمائندگی کے لیے حد سے زیادہ ترقی پسند قرار دیا ہے،اے بی سی نیوز نے اس نشست کو بھی غیر یقینی انتخابی مقابلوں میں شامل کیا ہے۔
مین: سوزن کولنز کے تقریباً 30 سالہ سینیٹ کیریئر کو چیلنج
مین میں طویل عرصے سے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن کا سامنا ہے،کولنز کئی مرتبہ انتخابی اندازوں کے برخلاف کامیاب رہی ہیں،وہ ریپبلکن پارٹی کی اعتدال پسند رہنما سمجھی جاتی ہیں اور بعض معاملات میں ٹرمپ سے اختلاف بھی کر چکی ہیں
ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ مین کی سابق ریاستی سینیٹ کے صدر اور اکثریتی رہنما جیکسن، کولنز کے تقریباً 30 سالہ سینیٹ کیریئر کا خاتمہ کر سکتے ہیں،جیکسن اس دوڑ میں اس وقت شامل ہوئے جب اصل ڈیموکریٹ امیدوار گراہم پلاٹنر جنسی حملے کے الزامات سامنے آنے کے بعد دستبردار ہو گئے
کولنز سینیٹ کی طاقتور حکومتی اداروں کو فنڈ جاری کرنے والی کمیٹی کی سربراہ ہیں ،انہیں ریاست میں طویل سیاسی تجربے اور عوامی شناخت کا فائدہ حاصل ہے،دوسری جانب جیکسن نے ان پر الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس بریٹ کیوانا کی تقرری کے حق میں فیصلہ کن ووٹ دے کر انہوں نے اس عدالتی فیصلے کی راہ ہموار کی جس کے ذریعے اسقاطِ حمل کے آئینی تحفظ کو ختم کیا گیا،اے بی سی نیوز کے مطابق، مختصر انتخابی مہم کے باوجود یہ مقابلہ سخت ہے
آئیووا: ٹرمپ کی حمایت یافتہ ایشلے ہنسن اور ڈیموکریٹ جوش ٹوریک کا مقابلہ
آئیووا میں ریپبلکن رکنِ کانگریس ایشلے ہنسن ریٹائر ہونے والی ریپبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں،ان کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹوریک ہیں، جو ریاستی اسمبلی کے رکن اور وہیل چیئر باسکٹ بال میں دو مرتبہ پیرا اولمپکس کے طلائی تمغے جیت چکے ہیں
انتخابی مہم کے آغاز میں اس ریاست کو ڈیموکریٹس کے لیے مشکل سمجھا جا رہا تھا،آئیووا کی کانگریسی نمائندگی میں اس وقت کوئی ڈیموکریٹ شامل نہیں اور ٹرمپ نے 2024 میں یہ ریاست 13 فیصد پوائنٹس کے فرق سے جیتی تھی،ریاست نے 2008 کے بعد کسی ڈیموکریٹ کو سینیٹ میں منتخب نہیں کیا
تاہم، ایران جنگ کے باعث بڑھنے والی قیمتوں نے آئیووا کے کسانوں کو متاثر کیا ہے،ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ اخراجات میں اضافے کے خلاف عوامی بے چینی ٹوریک کو ہنسن کے مقابلے میں موقع فراہم کر سکتی ہے،ٹرمپ ہنسن کی حمایت میں انتخابی جلسے کر رہے ہیں،اے بی سی نیوز نے اس نشست کو بھی سخت مقابلوں میں شمار کیا ہے
رپورٹ کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی راہ میں صرف ایک یا دو ریاستیں نہیں بلکہ کئی مختلف نوعیت کے مقابلے اہم ہیں،مشی گن میں مذہبی شناخت اور صحت عامہ کی پالیسی، ٹیکساس میں امیدواروں کے تنازعات اور مہنگائی، الاسکا میں انتخابی نظام اور ایک جیسے ناموں والے امیدوار، اوہائیو میں روزمرہ اخراجات، کنساس میں ریپبلکنز کی روایتی برتری، مین میں اسقاطِ حمل کا مسئلہ اور آئیووا میں کسانوں کے معاشی حالات انتخابی مہم کے اہم موضوعات ہیں،تاہم، اے بی سی نیوز کی رپورٹ میں شامل انتخابی اندازے حتمی نتائج نہیں ہیں،سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ 3 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہوگا

قومی خبریں سے مزید