Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیلی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی:611 ارب ڈالر جی ڈی پی اور عالمی ہائی ٹیک میں نمایاں مقام، تیرہ نوبل، تعلیم صحت اور دفاع ساتھ ساتھ، عظیم کامیابی کی وجہ ، فوج لالچی نہ عقلِ کلُ، کام سے کام رکھتی ہے

اسرائیلی معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی:611 ارب ڈالر جی ڈی پی اور عالمی ہائی ٹیک میں نمایاں مقام، تیرہ نوبل، تعلیم صحت اور دفاع ساتھ ساتھ، عظیم کامیابی کی وجہ ، فوج لالچی نہ عقلِ کلُ، کام سے کام رکھتی ہے

اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کا ایک ایسا ملک ہے جس نے نسبتاً چھوٹی آبادی کے باوجود سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق، سائبر سکیورٹی اور جدید کاروباری صنعتوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے،اسرائیل کے سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق 2025 کے اختتام پر ملک کی آبادی تقریباً 1 کروڑ 1 لاکھ 78 ہزار تھی، جبکہ اپریل 2026 میں جاری ہونے والے تخمینے کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 1 کروڑ 2 لاکھ 44 ہزار ہو گئی تھی
عالمی بینک کے مطابق 2025 میں اسرائیل کی مجموعی ملکی پیداوار، یعنی جی ڈی پی، تقریباً 610.8 ارب ڈالر تھی،اسی سال فی کس جی ڈی پی 60,337 ڈالر رہی، جبکہ معیشت کی سالانہ شرح نمو 2.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ فی کس جی ڈی پی کا مطلب ملک کی مجموعی پیداوار کو آبادی پر تقسیم کرنا ہے، نہ کہ ہر شہری کی حقیقی تنخواہ،اسرائیل کی معیشت میں جدید خدمات، ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، مالیاتی شعبے اور برآمدات اہم کردار ادا کرتے ہیں
اسرائیل میں تنخواہوں کے حوالے سے مرکزی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں فی ملازمت اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 13,919 اسرائیلی شیکل تھی، جو اس وقت کے اوسط شرح تبادلہ کے حساب سے تقریباً 4,480 ڈالر بنتی تھی،اس حساب سے سالانہ اوسط اجرت تقریباً 167,028 شیکل یا 53,760 ڈالر بنتی ہے،اسرائیل کے قومی انشورنس ادارے کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں فی ملازم اوسط ماہانہ آمدنی 15,098 شیکل تھی، جبکہ فی ملازمت اوسط اجرت 13,733 شیکل رہی،یہ فرق اس وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ بعض افراد ایک سے زیادہ ملازمتیں کرتے ہیں،اوسط اجرت تمام شہریوں کی آمدنی کی نمائندگی نہیں کرتی، کیونکہ زیادہ تنخواہ پانے والے افراد بھی اس اوسط کو اوپر لے جاتے ہیں
اسرائیل کی معیشت میں ہائی ٹیک صنعت بنیادی اہمیت رکھتی ہے،اسرائیل انوویشن اتھارٹی کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اس شعبے کی پیداوار 352 ارب شیکل رہی، جو ملک کی جی ڈی پی کا 18.3 فیصد تھی،اس شعبے کی حقیقی پیداوار میں سالانہ 8.2 فیصد اضافہ ہوا اور اس نے اسرائیل کی مجموعی معاشی ترقی میں تقریباً نصف حصہ ڈالا،ہائی ٹیک صنعت میں تقریباً 4 لاکھ افراد کام کرتے ہیں، جو ملک کی مجموعی افرادی قوت کا 11.4 فیصد ہیں
اسرائیل کی ہائی ٹیک برآمدات 2025 میں 85 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملک کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 58 فیصد تھیں،ان میں سافٹ ویئر، ڈیٹا پراسیسنگ، کمپیوٹر پروگرامنگ، الیکٹرانکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کی خدمات شامل ہیں،اسی سال اسرائیلی ہائی ٹیک کمپنیوں نے تقریباً 15 ارب ڈالر سرمایہ حاصل کیا، جبکہ کمپنیوں کی خرید و فروخت اور کاروباری انضمام کے سودوں کی مالیت بھی غیر معمولی رہی،رپورٹ کے مطابق 2025 میں اسرائیل میں تقریباً 775 نئی اسٹارٹ اپ کمپنیاں قائم ہوئیں،سرمایہ کاری کے عالمی مراکز میں اسرائیل کا شمار امریکہ سے باہر اہم ٹیکنالوجی مراکز میں ہوتا ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی اسرائیل کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھی ہیں،اسرائیل انوویشن اتھارٹی کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہائی ٹیک کمپنیوں کے لیے ہونے والی سرمایہ کاری کا تقریباً 32.5 فیصد حصہ مصنوعی ذہانت کی بنیادی ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کو ملا،مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں مشین لرننگ، ڈیٹا تجزیہ، خودکار نظام، کمپیوٹر وژن اور بڑے ڈیجیٹل ماڈلز کی تیاری شامل ہیں،اسرائیل میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں 2025 کی ایک تحقیق نے ایسی تقریباً 2,158 کمپنیوں کی نشاندہی کی، جن میں اسرائیلی اداروں کے ساتھ بین الاقوامی کمپنیوں کی مقامی شاخیں بھی شامل تھیں
سائبر سکیورٹی اسرائیل کی ٹیکنالوجی صنعت کا ایک اور اہم شعبہ ہے،ڈیجیٹل معلومات، مالیاتی اداروں، سرکاری نیٹ ورکس اور کاروباری نظاموں کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اسرائیلی کمپنیاں سافٹ ویئر اور حفاظتی نظام تیار کرتی ہیں،اسرائیل انوویشن اتھارٹی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً 1,500 ڈیپ ٹیک کمپنیاں کام کر رہی تھیں، جنہوں نے 2019 سے 2025 کے دوران 28 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ حاصل کیا،ان کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، طبی آلات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور جدید کمپیوٹنگ سے متعلق ادارے شامل ہیں۔ ڈیپ ٹیک ایسی ٹیکنالوجی کو کہا جاتا ہے جس کی بنیاد سائنسی تحقیق اور پیچیدہ انجینئرنگ پر ہو
تحقیق اور ترقی پر اخراجات بھی اسرائیل کی سائنسی ترقی کا اہم پہلو ہیں،اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم، او ای سی ڈی، کے مطابق اسرائیل شہری تحقیق و ترقی پر جی ڈی پی کے 6 فیصد سے زیادہ اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس حوالے سے تنظیم کے رکن ممالک میں سرفہرست رہا ہے،جامعات، نجی کمپنیوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک نے اسرائیل میں جدید تحقیق اور کاروباری منصوبوں کے لیے ماحول پیدا کیا ہے
طبی سائنس میں اسرائیل کی نمایاں سرگرمیوں میں طبی آلات، تشخیصی ٹیکنالوجی، طبی امیجنگ، ادویات، حیاتیاتی تحقیق اور ڈیجیٹل صحت شامل ہیں،اسرائیل انوویشن اتھارٹی اور ڈیپ ٹیک شعبے سے متعلق تحقیق کے مطابق طبی آلات اور زرعی خوراک کی ٹیکنالوجی سے متعلق عالمی ڈیپ ٹیک سرمایہ کاری میں اسرائیل کا حصہ تقریباً 9 سے 10 فیصد ہے،اسرائیلی ادارے بیماریوں کی جلد تشخیص، کم سے کم جراحی مداخلت، طبی معلومات کے تجزیے اور جدید طبی آلات کی تیاری پر کام کرتے ہیں،عالمی بینک کے مطابق اسرائیل میں متوقع عمر 2024 میں تقریباً 83 سال تھی،یہ اعدادوشمار صحت کے مجموعی نتائج کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر طبی سہولتوں کے ساتھ دیگر سماجی اور معاشی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں
نوبیل انعامات کے حوالے سے اسرائیل سے وابستہ انعام یافتگان کی تعداد 13 بتائی جاتی ہے،اس فہرست میں کیمیا کے 6، امن کے 3، معاشیات کے 3 اور ادب کا ایک انعام یافتہ شامل ہے،ان شخصیات میں ادبی انعام یافتہ شموئیل یوسف اگنون، امن کے انعام یافتگان مناخیم بیگن، یتزاک رابین اور شمعون پیریز، معاشیات کے انعام یافتگان ڈینیئل کاہن مین، رابرٹ آومن اور جوشوا اینگریسٹ، اور کیمیا کے انعام یافتگان آرون چیخانوور، آورام ہرشکو، ایڈا یوناتھ، ڈین شختمان، مائیکل لیوٹ اور آریہ وارشل شامل ہیں،ان میں سے بعض شخصیات نے اپنے تحقیقی یا پیشہ ورانہ کیریئر کا اہم حصہ اسرائیل سے باہر گزارا، جبکہ بعض کے پاس ایک سے زیادہ ممالک کی شہریت یا علمی وابستگیاں بھی تھیں
آرون چیخانوور اور آورام ہرشکو کو 2004 میں خلیاتی نظام میں پروٹین کے ٹوٹنے کے عمل سے متعلق تحقیق پر کیمیا کا نوبیل انعام ملا،ایڈا یوناتھ کو 2009 میں رائبوسوم کی ساخت اور افعال سے متعلق تحقیق پر یہ اعزاز دیا گیا، جبکہ ڈین شختمان کو 2011 میں کوائسی کرسٹلز کی دریافت پر کیمیا کا نوبیل انعام ملا،مائیکل لیوٹ اور آریہ وارشل نے 2013 میں پیچیدہ کیمیائی نظاموں کے کثیر پیمائشی ماڈلز کی تیاری پر یہ انعام حاصل کیا،معاشیات میں ڈینیئل کاہن مین کو 2002 اور جوشوا اینگریسٹ کو 2021 میں نوبیل انعام دیا گیا
اسرائیل کی معیشت اور سائنسی ترقی کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، برآمدات اور عالمی سرمایہ کاری اس کے معاشی ڈھانچے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں،ہائی ٹیک صنعت کا جی ڈی پی میں 18.3 فیصد حصہ، مجموعی برآمدات میں اس شعبے کی 58 فیصد نمائندگی، مصنوعی ذہانت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور طبی ٹیکنالوجی میں تحقیق اس کی عالمی معاشی موجودگی کی اہم جہتیں ہیں،تاہم، ٹیکنالوجی کی ترقی اور قومی آمدنی کے اعدادوشمار کو سمجھنے کے لیے فی کس جی ڈی پی، اوسط تنخواہ، حقیقی اجرت اور آمدنی کی تقسیم کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے،یہی اعدادوشمار کسی ملک کی معیشت، شہریوں کے معیارِ زندگی اور سائنسی صلاحیتوں کی زیادہ مکمل تصویر پیش کرتے ہیں
2026 کے منظور شدہ بجٹ میں دفاع پر تقریباً 20.4 فیصد، تعلیم پر 14.2 فیصد اور صحت پر 9.2 فیصد اخراجات مختص کیے گئے ہیں،یہ تناسب 699 ارب شیکل کے بنیادی سرکاری بجٹ کے حساب سے ہے، جس میں دفاع کے لیے تقریباً 142.4 ارب، تعلیم کے لیے 98.9 ارب اور صحت کے لیے 64.4 ارب شیکل رکھے گئے ہیں،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اپریل 2026 کے تخمینے کے مطابق اسرائیل میں بے روزگاری کی شرح 3.2 فیصد اور مہنگائی کی سالانہ اوسط شرح 2.3 فیصد رہنے کی توقع ہے،اسی ادارے نے 2026 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5.9 فیصد کے برابر رہنے کا تخمینہ لگایا ہے، اسرائیل میں پندرہ سال اور اس سے اوپر کے شہریوں کی 92 فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے جبکہ اکیاون فیصد شہری گریجوئیٹ ہیں ، اسرائیل کی فوج نے اپنے قیام سے ابتک ایک بار بھی حکومت پر قبضہ کیا اور نہ ہی فوج نے انتخابات منسوخ کرکے اقتدار سنبھالا ہے،،تاہم، سیاست میں سابق فوجی جرنیلوں کا اثر نمایاں رہا ہے، جن میں یتزاک رابین، ایہود باراک اور ایریل شیرون شامل ہیں، جو فوجی خدمات کے بعد منتخب سیاسی قیادت تک پہنچے
البتہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، خصوصاً 2020، 2021 اور 2022 کے انتخابات کے بعد بعض دائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے،2019 سے 2022 کے دوران کیے گئے 9 عوامی جائزوں میں 27 سے 44 فیصد اسرائیلیوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر کم اعتماد ظاہر کیا، لیکن یہ اعداد دھاندلی ثابت ہونے کی شرح نہیں بلکہ انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کی پیمائش ہیں،دستیاب تحقیقی شواہد کے مطابق اسرائیل میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی معمول نہیں

قومی خبریں سے مزید