مونٹریال میں پولیس افسر کا بے گھر شخص پر پیشاب کرنے کا الزام، 2 افسر معطل، آزادانہ تحقیقات شروع
کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ایک پولیس افسر پر دوران ڈیوٹی ایک بے گھر شخص پر پیشاب کرنے کا سنگین الزام سامنے آیا ہے، جس کے بعد متعلقہ افسر کو معطل کر دیا گیا ہے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر کیوبیک حکومت نے 25 اکتوبر کو آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا، جن میں پولیس اخلاقیات کے کمشنر اور آزاد تحقیقاتی ادارہ شامل ہیں اس واقعے نے پولیس کے احتساب، انسانی وقار اور بے گھر افراد کے ساتھ حکام کے رویے پر سوالات اٹھا دیے ہیں
یہ واقعہ مونٹریال کے وسطی علاقے میں پولیس اسٹیشن 21 سے وابستہ ایک افسر کے حوالے سے ہے۔ مبینہ طور پر افسر نے دوران ڈیوٹی سڑک پر موجود ایک بے گھر شخص پر پیشاب کیا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کے بعض دوسرے اہلکاروں نے بھی اس مبینہ حرکت پر اعتراض کیا اور اعلیٰ حکام کو اس کی اطلاع دی مونٹریال پولیس نے تصدیق کی کہ اس واقعے سمیت بدسلوکی کے 2 الگ الگ معاملات میں 2 افسران کو معطل کیا گیا ہے
پہلے افسر پر بے گھر شخص کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا الزام ہے، جبکہ دوسرے افسر کے خلاف الگ معاملے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اس دوسرے افسر پر الزام ہے کہ اس نے گرفتاری کے دوران ایک مشتبہ شخص کو تضحیک آمیز حالت میں دکھانے والی تصاویر بنوائیں یا ان میں حصہ لیا دونوں معاملات کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی تک ان الزامات کو عدالت میں ثابت نہیں کیا گیا
کیوبیک کے داخلی سلامتی کے وزیر گائے جونیئر لاپوائنٹ نے 25 اکتوبر کو اعلان کیا کہ معاملے کی شفافیت اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بیرونی اداروں سے تحقیقات کرائی جائیں گی آزاد تحقیقاتی ادارہ بی ای آئی ممکنہ فوجداری پہلو کا جائزہ لے گا، جبکہ پولیس اخلاقیات کا کمشنر یہ دیکھے گا کہ آیا متعلقہ افسر نے پولیس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے
وزیر کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مونٹریال پولیس کی تحقیقات پر عدم اعتماد ظاہر کرنا نہیں بلکہ اس حساس معاملے میں غیر جانب داری اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے آزادانہ تحقیقات کے ذریعے واقعے کے حالات، دستیاب شواہد اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا
مونٹریال کی میئر سورایا مارٹینیز فیرادا نے بھی الزامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص انسانی وقار اور احترام کا حق رکھتا ہے ان کے مطابق ایسے الزامات انتہائی سنجیدہ ہیں اور ان کی مکمل حقیقت سامنے آنی چاہیے مونٹریال پولیس نے بھی کہا ہے کہ بے گھر افراد شہر کی آبادی کا حصہ ہیں اور انہیں بھی دوسرے شہریوں کی طرح انسانیت، احترام اور وقار کے ساتھ پیش آنے کا حق حاصل ہے
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مونٹریال پولیس کو پہلے بھی اہلکاروں کے مبینہ امتیازی رویے اور بدسلوکی کے الزامات کا سامنا رہا ہے جون 2026 میں مونٹریال نارتھ کے علاقے میں 16 اہلکاروں پر مشتمل ایک گشتی یونٹ کو نسلی امتیاز اور نامناسب رویے کے الزامات کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اس معاملے میں بھی متعدد اہلکار معطل کیے گئے اور شواہد استغاثہ کے حکام کو بھیجے گئے تاکہ ممکنہ فوجداری کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکے
حالیہ واقعے کے بعد پولیس کے احتساب اور بے گھر افراد کے حقوق کے حوالے سے بحث مزید تیز ہو گئی ہے بے گھر افراد کو رہائش کی کمی، سرد موسم، صحت کی سہولتوں تک محدود رسائی اور معاشرتی عدم تحفظ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے ایسے حالات میں پولیس کا رویہ ان کے تحفظ اور سرکاری اداروں پر اعتماد کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے
24 اکتوبر کو مونٹریال میں اس معاملے کے خلاف احتجاج بھی ہوا مظاہرین نے پولیس کے احتساب اور بے گھر افراد کے ساتھ باعزت سلوک کا مطالبہ کیا اس احتجاج کے دوران گرفتاریوں اور پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے اقدامات کی بھی اطلاعات سامنے آئیں
اب آزادانہ تحقیقات میں یہ طے کیا جائے گا کہ مبینہ واقعے کے وقت کیا حالات تھے، کیا شواہد الزام کی تائید کرتے ہیں اور آیا متعلقہ افسر کے خلاف فوجداری یا محکمانہ کارروائی کی ضرورت ہے فی الحال افسر معطل ہے، تاہم الزام ثابت نہیں ہوا اور اس کے خلاف فوجداری فرد جرم عائد کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی
یہ معاملہ محض ایک پولیس افسر کے خلاف الزام تک محدود نہیں بلکہ اس سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ معاشرے کے انتہائی کمزور افراد کے حقوق اور عزت کے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں کو کس حد تک جواب دہ ہونا چاہیے تحقیقات کے نتائج ہی یہ واضح کریں گے کہ اس واقعے میں کیا ہوا اور ذمہ داروں کے خلاف کون سے اقدامات کیے جائیں گے





