کیلیفورنیا کے بیلٹ تنازع میں وفاقی اپیل کورٹ کا محکمہ انصاف کے خلاف فیصلہ، 20 ہزار ڈاک ووٹوں پر فوری پابندی کی درخواست مسترد
واشنگٹن:امریکا کی وفاقی اپیل کورٹ نے پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں کیلیفورنیا کے 20 ہزار ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کو الگ رکھنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی،محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ یہ ووٹ ایسے افراد کو بھی بھیجے گئے ہوں گے جو امریکی شہری نہیں ہیں، تاہم اس دعوے کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی
تین رکنی اپیل کورٹ کے پینل نے 2 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے فیصلہ دیا کہ اس مرحلے پر عدالت کو اس معاملے میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں اور انتظامیہ کو پہلے ماتحت عدالت کے جج کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا،متعلقہ جج نے منگل کو سماعت مقرر کر رکھی ہے، لیکن محکمہ انصاف فوری کارروائی پر زور دے رہا ہے، کیونکہ ہر روز مزید ڈاک ووٹ واپس موصول ہو رہے ہیں
عدالت نے اپنے غیر دستخط شدہ فیصلے میں لکھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہنگامی صورت حال کا جو مؤقف پیش کیا گیا ہے، اس کا ایک حصہ خود انتظامیہ کے اپنے اقدامات سے پیدا ہوا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ماہ کے آغاز میں کیلیفورنیا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا،ریاست نے اس الزام کو تسلیم نہیں کیا کہ اس نے وسط مدتی انتخابات کے لیے تقریباً 20 ہزار ایسے افراد کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجے جن کے امریکی شہری نہ ہونے کا امکان ہے،وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ ان بیلٹوں کو دوسرے ووٹوں سے الگ رکھا جائے تاکہ ان کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کیا جا سکے کہ انہیں شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں
اکثریتی فیصلے میں شامل جج مارک بینیٹ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جبکہ جج گیبریل سانچیز کو سابق صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا
اختلافی نوٹ میں جج پیٹرک بوماتے، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، نے خبردار کیا کہ ممکن ہے بعد میں متعلقہ بیلٹوں کی شناخت کرنا ممکن نہ رہے،ان کے مطابق، اس سے ووٹوں کی جانچ پڑتال کے معاملے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں
یہ مقدمہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کی اہلیت، ڈاک کے ذریعے ووٹنگ اور انتخابی عمل میں وفاقی حکومت اور ریاستی حکام کے اختیارات کے درمیان قانونی تنازعہ کی اہم مثال بن گیا ہے،اپیل کورٹ کے فیصلے نے فی الحال بیلٹ الگ رکھنے کا حکم دینے سے انکار کیا ہے، تاہم اصل مقدمے پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، جس کی سماعت کل منگل کو ہوگی





