Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نوجوان امریکیوں میں سوشلزم کی مقبولیت میں اضافہ، مشی گن میں ٹرمپ کی ریلی میں اسے سرکاری غلامی سے تشبیہ دے دی گئی

نوجوان امریکیوں میں سوشلزم کی مقبولیت میں اضافہ، مشی گن میں ٹرمپ کی ریلی میں اسے سرکاری غلامی سے تشبیہ دے دی گئی

امریکہ میں نوجوانوں کے درمیان سوشلزم کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن اس نظریے کے حقیقی مفہوم پر اختلاف بھی نمایاں ہے،فاکس نیوز کے ایک تازہ سروے کے مطابق، 18 سے 34 سال کی عمر کے 48 فیصد امریکی سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ مجموعی امریکی آبادی میں یہ شرح 32 فیصد ہے،تاہم مشی گن یونیورسٹی کے طلبہ سے گفتگو میں سامنے آیا کہ بعض نوجوان سوشلزم کو مفت یا کم خرچ صحت کی سہولتوں،سستی رہائش اور تعلیم تک رسائی سے جوڑتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے معیشت اور صنعتوں پر اجتماعی یا حکومتی ملکیت کے نظام کے طور پر دیکھتے ہیں
فاکس نیوز ڈیجیٹل کے صحافی رابرٹ شمڈ نے این آربر میں مشی گن یونیورسٹی کے ایک درجن سے زیادہ طلبہ سے سوشلزم کی تعریف پوچھی تو مختلف جوابات سامنے آئے،بعض طلبہ نے اسے ایسا نظام قرار دیا جس میں حکومت عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسروں نے کہا کہ اس کا بنیادی تصور پیداوار اور وسائل کی ملکیت کو نجی افراد سے اجتماعی یا کارکنوں کے اختیار میں منتقل کرنا ہے،کم از کم ایک درجن طلبہ نے یہ کہتے ہوئے کیمرے کے سامنے انٹرویو دینے سے انکار کیا کہ انہیں اس نظریے کے بارے میں اتنی معلومات نہیں کہ وہ اس پر باخبر رائے دے سکیں
یہ بحث 25 اکتوبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشی گن میں انتخابی ریلی کے دوران بھی نمایاں رہی، جہاں ریپبلکن امیدواروں اور مقررین نے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدل السید کو سوشلزم سے جوڑتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو امریکی آزادی اور معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا،ریلی میں مقرر ڈیوڈ بیمر نے کہا کہ سوشلزم ایک ایسا نظام ہے جو لوگوں کو حکومت کے تابع غلام بنا دیتا ہے،ان کے الفاظ میں، یہ لوگوں کو حکومتی نظام کا غلام بنانے کا نیا طریقہ ہے،صدر ٹرمپ نے بھی السید کی پالیسیوں کو کمیونسٹ اور سوشلسٹ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی
ریپبلکن سیاست میں سوشلزم کے خلاف یہ مؤقف ایک اہم انتخابی پیغام بن چکا ہے،اس کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگر حکومت صحت، رہائش، صنعت اور دوسری معاشی سرگرمیوں پر ضرورت سے زیادہ اختیار حاصل کر لے تو انفرادی آزادی، نجی ملکیت اور کاروباری خودمختاری محدود ہو سکتی ہے،اس تناظر میں ’’حکومتی غلامی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، تاہم یہ سیاسی تنقید ہے، سوشلزم کی کوئی متفقہ علمی تعریف نہیں،سوشلزم کی مختلف شکلوں میں حکومتی ملکیت، کارکنوں کی اجتماعی ملکیت اور نجی کاروبار کے ساتھ وسیع عوامی سہولتوں کے مختلف امتزاج شامل ہیں
نوجوانوں میں سوشلزم کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ زندگی کے بڑھتے اخراجات بھی ہیں،مہنگی رہائش، صحت کی سہولتوں کی لاگت اور تعلیم کے اخراجات کے باعث بعض نوجوان ایسے معاشی نظاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں جن میں حکومت عوامی خدمات کی فراہمی میں زیادہ کردار ادا کرے،فاکس نیوز سے گفتگو کرنے والے بعض طلبہ نے کینیڈا اور شمالی یورپ کے ممالک کو اس حوالے سے مثالوں کے طور پر پیش کیا، اگرچہ ان ممالک کے معاشی نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور انہیں مکمل طور پر سوشلسٹ قرار دینا درست نہیں
سوشلزم اور کمیونزم کے درمیان فرق بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے،سوشلزم کی روایتی تعریف میں بڑے پیداواری وسائل کی عوامی، اجتماعی یا کارکنوں کی ملکیت شامل ہے، جبکہ کمیونزم ایک وسیع نظریاتی تصور ہے جس کی مختلف تاریخی شکلوں میں معیشت اور سیاسی اقتدار پر ریاستی کنٹرول بھی شامل رہا ہے،دوسری طرف، فلاحی ریاست کا تصور نجی ملکیت اور مارکیٹ اکانومی برقرار رکھتے ہوئے صحت، تعلیم، بے روزگاری کی امداد اور دوسری عوامی سہولتوں کے لیے سرکاری اخراجات کی حمایت کرتا ہے،اس لیے صرف مفت صحت کی سہولت یا سستی رہائش کی حمایت کو لازماً مکمل سوشلزم کی حمایت نہیں کہا جا سکتا
یہ بحث مشی گن کے سینیٹ انتخابات میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز اور ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کے درمیان مقابلے میں سوشلزم، صحت کی پالیسی اور قومی سلامتی نمایاں موضوعات ہیں۔ السید خود سوشلزم سے متعلق بعض الزامات کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ ریپبلکن ان کے سیاسی روابط اور پالیسی تجاویز کو انتخابی تنقید کا حصہ بنا رہے ہیں،ریاست مشی گن کے نتائج نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کے لیے بھی اہم ہو سکتے ہیں
سروے اور یونیورسٹی کے طلبہ کے انٹرویوز سے ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے،نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے رکھتا ہے، لیکن اس اصطلاح کے عملی اور معاشی مفہوم پر اتفاق نہیں،ریپبلکن اس ابہام کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے سوشلزم کو حکومتی غلبے اور آزادی کے خاتمے سے جوڑتے ہیں، جبکہ اس کے حامی اسے معاشی عدم مساوات اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کا ممکنہ حل سمجھتے ہیں،آئندہ انتخابی بحث میں اصل سوال یہ ہوگا کہ ووٹرز ان نعروں کے بجائے صحت، رہائش، ٹیکس، روزگار اور نجی ملکیت سے متعلق ٹھوس پالیسیوں کو کس بنیاد پر پرکھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید