قدیم رومی شیشے کا 1600 سالہ راز حل، سائنس دانوں نے روشنی سے رنگ بدلنے والا شاہکار دوبارہ تیار کر لیا
برطانوی سائنس دانوں نے قدیم روم کے تقریباً 1600 سال پرانے ایسے شیشے کی تیاری کا طریقہ دوبارہ دریافت کر لیا ہے جو روشنی کا رخ بدلنے سے اپنا رنگ تبدیل کرتا ہے،چوتھی صدی عیسوی کا یہ غیرمعمولی شاہکار، جسے لائکرگس کپ کہا جاتا ہے، عام روشنی میں سبز جبکہ پیچھے سے روشنی پڑنے پر یاقوت کی طرح سرخ دکھائی دیتا ہے،اس کی حیرت انگیز خصوصیت نے صدیوں سے تاریخ دانوں، شیشہ سازوں اور سائنس دانوں کو حیران کر رکھا تھا
برطانوی اخبار گارڈین کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے قدیم رومی شیشے کے ایک ٹکڑے سے اخذ کیے گئے روایتی طریقۂ تیاری کو استعمال کرتے ہوئے اس کی رنگ بدلنے کی صلاحیت دوبارہ پیدا کی ہے،اس تجربے میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیائی، مادی اور حیاتیاتی انجینئرنگ سے وابستہ ڈاکٹر لیزا ہالینڈز نے اہم کردار ادا کیا،ان کے مطابق، اس قدیم شیشے کی خصوصیات کو دوبارہ پیدا کرنا طویل محنت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی کئی کوششیں کی گئیں لیکن انہیں محدود کامیابی حاصل ہوئی،انہوں نے اس تجربے کو اپنے لیے جادو جیسا قرار دیا
لائکرگس کپ قدیم رومی شیشہ سازی کی غیرمعمولی مہارت کا ثبوت ہے،یہ دو رنگی شیشے کی ایک نادر مثال ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں ڈائیکروئک گلاس کہا جاتا ہے،اس کی سطح پر روشنی کے پڑنے اور اس کے شیشے میں سے گزرنے کے انداز کے باعث دیکھنے والے کو مختلف رنگ دکھائی دیتے ہیں،اس کپ میں چوتھی صدی عیسوی کے رومی فن کی عکاسی کرتے ہوئے بادشاہ لائکرگس کی یونانی دیومالائی کہانی کا منظر بھی کندہ ہے
اس کی رنگ بدلنے کی صلاحیت کا تعلق شیشے میں موجود انتہائی باریک دھاتی ذرات سے ہے،جدید سائنسی تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ اس شیشے میں سونے اور چاندی کے نینو ذرات موجود ہیں،یہ ذرات روشنی کے ساتھ مخصوص انداز میں تعامل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں روشنی کے منبع اور دیکھنے کے زاویے کے مطابق شیشے کا رنگ تبدیل ہوتا محسوس ہوتا ہے،اس طرح قدیم کاریگروں نے جدید نینو ٹیکنالوجی کے نام سے معروف سائنسی اصولوں سے مشابہ اثر پیدا کیا، حالانکہ انہیں اس عمل کی جدید سائنسی وضاحت معلوم ہونے کا کوئی ثبوت نہیں
لائکرگس کپ اس وقت برٹش میوزیم میں محفوظ ہے اور قدیم دنیا کے فن، ہنر اور سائنسی تاریخ کے اہم ترین نمونوں میں شمار ہوتا ہے،شیفیلڈ کے سائنس دانوں کی کامیابی سے نہ صرف اس قدیم شیشے کی تیاری کے طریقوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ جدید آلات اور سائنسی علم کے بغیر قدیم کاریگر کس طرح غیرمعمولی بصری اثرات پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے
یہ تحقیق اس بات کی مثال ہے کہ آثارِ قدیمہ اور جدید مادی سائنس مل کر ماضی کی ایسی تکنیکی مہارتوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں جنہیں طویل عرصے تک ناقابلِ وضاحت سمجھا جاتا رہا





