ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے خلاف ایلوس پریسلے کے 274 گانوں کے مبینہ غیرقانونی استعمال پر مقدمہ، 41 ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ
لاس اینجلس: عالمی شہرت یافتہ گلوکار ایلوس پریسلے کے گانوں کے حقوق رکھنے والے اداروں نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے اجازت یا معاوضے کے بغیر پریسلے کے 274 کاپی رائٹ شدہ گانوں کو اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ (Claude) کی تربیت کے لیے استعمال کیا
یہ مقدمہ 23 اکتوبر کو سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا،مدعیان میں پریسلے کے نام، تصویر اور دیگر حقوق کے مالک ادارے آتھنٹک برانڈز گروپ سے وابستہ ادارے اور موسیقی کے حقوق رکھنے والے دیگر فریق شامل ہیں،مقدمے میں ’’کینٹ ہیلپ فالن اِن لو‘‘، ’’آل شوک اَپ‘‘، ’’ڈونٹ بی کرُوئل‘‘ اور ’’ریٹرن ٹو سینڈر‘‘ جیسے مشہور گانے شامل ہیں
مدعیان کا کہنا ہے کہ اینتھروپک نے ان گانوں کے بول اور موسیقی سے متعلق کاپی رائٹ شدہ مواد کو بغیر لائسنس استعمال کیا اور اس عمل سے غیرمجاز تخلیقات تیار ہونے کا خطرہ پیدا ہوا،ان کے وکلا کے مطابق، کمپنی کے حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کے باوجود کلاڈ سے ایسے مواد کی تیاری ممکن رہی جو اصل گانوں کی ساخت، دھن کے نمایاں حصوں اور بندش سے غیرمعمولی مماثلت رکھتا ہے
مدعیان کے وکیل رچرڈ بش نے کہا کہ ایلوس پریسلے کے حقوق رکھنے والے ان مشہور گانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں،مقدمے میں ہر مبینہ خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 150,000 ڈالر قانونی ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق مجموعی رقم تقریباً 41.1 ملین ڈالر بنتی ہے،مدعیان نے مبینہ خلاف ورزی روکنے اور غیرمجاز نقول تلف کرنے کے عدالتی احکامات بھی مانگے ہیں
اینتھروپک نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی ان دعوؤں سے متفق نہیں اور عدالت میں اپنا دفاع کرے گی،اس مقدمے میں ابھی کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے الزامات کو ثابت شدہ خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا
یہ مقدمہ مصنوعی ذہانت کی صنعت اور موسیقی کے حقوق رکھنے والوں کے درمیان جاری وسیع تر قانونی تنازعہ کا حصہ ہے،اس سے پہلے بھی موسیقی کے ناشرین نے اینتھروپک کے خلاف کاپی رائٹ شدہ گانوں کے بول اور دیگر مواد کو مصنوعی ذہانت کی تربیت میں مبینہ طور پر استعمال کرنے پر مقدمات دائر کیے ہیں،بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ آیا کاپی رائٹ شدہ مواد کو اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال کرنا امریکی قانون کے تحت جائز ہے، اور اگر مصنوعی ذہانت اصل تخلیقات سے ملتا جلتا مواد تیار کرے تو اس کی قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے





