Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کے بیٹوں اور اسرائیلی سرمایہ داروں کی ڈرون کمپنی کے بھارت اور پاکستان سے دفاعی معاہدے، پاکستانی آرڈر کی تکمیل بھارت براستہ دبئی ہوگی

ٹرمپ کے بیٹوں اور اسرائیلی سرمایہ داروں کی ڈرون کمپنی کے بھارت اور پاکستان سے دفاعی معاہدے، پاکستانی آرڈر کی تکمیل بھارت براستہ دبئی ہوگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دونوں بیٹوں کی سرمایہ کاری سے منسلک امریکی ڈرون کمپنی پاورَس نے پاکستان کی وزارتِ دفاع سے ابتدائی خریداری کا آرڈر حاصل کرنے اور پاکستانی فوج کے ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد اپنے کاروبار کو نئی منڈیوں تک پھیلانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں, انتہائ ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی کی انتھک محنت اور جدوجہد کے ساتھ امریکہ میں موجود تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے مطابق تیار ڈرون پاورس بھارت میں تیار کرکے براستہ دبئی فراہم کرے گی، واضع رہے کہ پاکستان سے تعاون کا اعلان کرنے سے تقریباً تین ماہ پہلے یہی کمپنی بھارت میں اپنے اینٹی ڈرون نظام کی تیاری اور فروخت کے لیے ایک بھارتی دفاعی ادارے کے ساتھ خصوصی لائسنسنگ معاہدہ کر چکی تھی، اس طرح ایک ہی امریکی کمپنی کے دفاعی نظام جنوبی ایشیا کے دونوں حریف ممالک کے لیے دستیاب ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے، جسے امریکہ اور اسرائیل کے مالکان ملکر چلائیں گے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دونوں صاحبزادوں کے ساتھ کمپنی کے دوسرے دو مالکان اسرائیلی یہودی ہیں جن میں سے ایک اسرائیلی فوج میں ملازمت کرتے رہے ہیں
پاورَس نے 17 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ اسے پاکستان کی وزارتِ دفاع سے بغیر پائلٹ فضائی نظام اور متعلقہ معاونت کے لیے محدود ابتدائی آرڈر ملا ہے،،کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت بھی طے ہوئی ہے، جس میں ابتدائی آرڈر شامل ہے، تاہم کمپنی نے نہ خریدے جانے والے ڈرونز کی تعداد بتائی، نہ آرڈر کی مالی مالیت ظاہر کی اور نہ ہی ترسیل کی کوئی تاریخ دی،کمپنی نے ان تفصیلات کو سکیورٹی اور رازداری سے متعلق امور قرار دیتے ہوئے ظاہر کرنے سے گریز کیا، 16 ستمبر کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل مدتی صلاحیت سازی میں تعاون پر بات چیت کی تصدیق کی تھی، تاہم فوج کے بیان میں مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی آرڈر کا ذکر نہیں تھا
25 اکتوبر تک اس ملاقات کو 39 دن گزر چکے ہیں، لیکن دستیاب عوامی اعلانات میں پاکستان کے آرڈر کی تعداد، قیمت، مخصوص ماڈل اور ترسیل کے شیڈول کی کوئی نئی تصدیق سامنے نہیں آئی،کمپنی نے ایک الگ بیان میں واضح کیا تھا کہ وسیع تر تعاون کی مفاہمتی یادداشت مستقبل کے ممکنہ منصوبوں کے لیے ایک فریم ورک ہے، خود کوئی حتمی خریداری معاہدہ نہیں، اور اس کے تحت مزید پروگراموں کے لیے باقاعدہ معاہدوں اور متعلقہ سرکاری منظوریوں کی ضرورت ہوگی،اس لیے پاکستان میں ڈرون بنانے کی صلاحیت، مشترکہ پیداوار یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فی الحال طے شدہ منصوبہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمپنی کے شریک بانی نے پاکستان میں ٹیکنالوجی تیار کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی بات بھی کی تھی
اس معاملے میں بھارت کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے،بھارتی کمپنی پارس ڈیفنس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجیز نے جون 2026 میں پاورَس کے ذیلی ادارے ٹینڈم ڈیفنس کے ساتھ ایک خصوصی دانشورانہ ملکیت کے لائسنسنگ معاہدے پر دستخط کیے تھے،اس معاہدے کے تحت پارس ڈیفنس کو پاورَس کے گارڈین ون انٹرسیپٹر نظام کو بھارت میں تیار کرنے اور وہاں فروخت کرنے کے خصوصی حقوق دیے گئے،یہ بیٹری سے چلنے والا تیز رفتار اینٹی ڈرون نظام ہے، جسے دشمن کے ڈرونز کا سراغ لگانے، ان کا تعاقب کرنے اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے،اس کی ممکنہ افادیت میں یک طرفہ حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز، لوئٹرنگ میونیشنز اور ڈرونز کے جھنڈ سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا شامل ہے
بھارتی معاہدے کی ابتدائی مدت 12 ماہ ہے، جس میں دونوں فریقوں کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے،پارس ڈیفنس کو لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی اور بھارت میں فروخت سے حاصل ہونے والے خالص منافع کا ایک حصہ پاورَس کو دینا ہوگا،دستیاب معاہداتی تفصیلات کے مطابق یہ حقوق بھارتی مارکیٹ کے لیے ہیں،اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پارس کو اسی معاہدے کے تحت دنیا بھر میں گارڈین ون فروخت کرنے کے حقوق بھی مل گئے ہیں،بھارت میں پیداواری تنصیب، مجموعی سرمایہ کاری، پیداواری ہدف یا تیار شدہ ڈرونز کی سالانہ تعداد کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ رقم یا ہدف سامنے نہیں آیا۔
پاورَس کی ملکیت اور سرمایہ کاری کا پہلو بھی اہم ہے،ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کی سرمایہ کاری امریکی کمپنی امریکن وینچرز کے ذریعے منسلک ہے،ستمبر میں دستیاب امریکی مالیاتی دستاویزات کے مطابق، مجوزہ کاروباری انضمام کے بعد اس سرمایہ کاری کے ذریعے مشترکہ کمپنی میں 9.9 فیصد بالواسطہ ملکیتی حصہ متوقع تھا،پاورَس نے 2 اکتوبر کو نیس ڈیک میں درج کمپنی اوریئس گرین وے ہولڈنگز کے ساتھ انضمام مکمل کرنے کا اعلان کیا اور اس کے بعد کمپنی کا حصص تجارتی نشان پی یو ایس اے کے تحت کاروبار شروع ہوا،اس لیے 9.9 فیصد کو ہر بیٹے کی انفرادی ملکیت یا پاورَس میں دونوں کی الگ الگ براہِ راست حصص داری قرار دینا درست نہیں ہوگا
کمپنی کی قیادت کے اسرائیل سے روابط نے بھی پاکستان کے ساتھ اس تعاون پر سوالات پیدا کیے ہیں،الجزیرہ کی ستمبر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، پاورَس کے شریک بانی زیو ماروم اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہوں نے کائیزن ایرو اسپیس قائم کی تھی، جو اب پاورَس کے کاروباری ڈھانچے کا حصہ ہے،کمپنی کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار جسٹن گینز اسرائیلی دفاعی ادارے ایلبٹ سسٹمز کی امریکی شاخ ایلبٹ سسٹمز آف امریکہ میں نائب صدر رہ چکے ہیں،ان روابط سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمپنی اسرائیلی حکومت کے لیے کام کر رہی ہے یا اس کے ذریعے پاکستان کو اسرائیلی فوجی ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔ تاہم دفاعی خریداری کے تناظر میں کمپنی کی ملکیت، قیادت، ٹیکنالوجی کے ماخذ اور ممکنہ سپلائی چین سے متعلق سوالات اپنی جگہ اہم ہیں
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینیوں کے حق میں اپنی حمایت کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کے طویل عرصے سے روابط موجود ہیں،اس تناظر میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ پاکستان جس امریکی کمپنی سے دفاعی تعاون کر رہا ہے، اس کی اسرائیلی دفاعی صنعت سے وابستہ شخصیات اور بھارت کے ساتھ اس کے معاہدے کو خریداری کے جائزے میں کس طرح دیکھا گیا،
پاکستان کے لیے اصل معاملہ سیاسی علامت سے آگے بڑھ کر دفاعی صلاحیت، قیمت، ٹیکنالوجی اور مقامی پیداوار کی شرائط کا ہے،اگر پاورَس کے ساتھ تعاون کا مقصد پاکستان میں ڈرون سازی، تربیت، مرمت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مستقبل میں برآمدات کے مواقع پیدا کرنا ہے تو ان مقاصد کی کامیابی کا اندازہ حتمی معاہدے اور اس کی عملی شرائط سے ہی لگایا جا سکے گا،فی الحال کمپنی نے پاکستان کے ابتدائی آرڈر کی قیمت اور تعداد ظاہر نہیں کی، جبکہ بھارت میں گارڈین ون کی تیاری اور فروخت کے حقوق سے متعلق معاہدہ نسبتاً واضح ہے،یہی فرق اس معاملے کا بنیادی سوال ہے،پاکستان کو محض تیار شدہ ڈرون ہی فراہم کیے جائیں گے یا مستقبل میں اسے بھی ایسی مقامی پیداواری صلاحیت حاصل ہوگی جس سے طویل مدت میں اس کا دفاعی اور صنعتی فائدہ یقینی بن سکے
پاورَس نے اکتوبر میں اپنے خودکار ڈرون انٹرسیپٹر نظام کی نئی پیش کش بھی کی ہے، لیکن کمپنی کے تازہ عوامی اعلانات میں پاکستان کے آرڈر کے لیے کسی مخصوص نظام، تعداد، قیمت یا ترسیل کے وقت کی تصدیق نہیں کی گئی،چنانچہ پاکستان اور بھارت کے معاہدوں کا حقیقی موازنہ کرنے کے لیے ابھی مزید معاہداتی تفصیلات درکار ہیں

قومی خبریں سے مزید