مشیگن میں ٹرمپ کی انتخابی مہم السید کی امریکی شناخت، وفاداری اور اخوان المسلمون سے مبینہ تعلقات پر مرکوز رہی، صدر الہان عمر کو بھی نہیں بھولے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو مشیگن میں ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کی انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی امریکی وفاداری پر سوالات اٹھائے، انہیں ’’جہادی‘‘ اور اخوان المسلمون کا رکن قرار دیا اور 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دے کر ووٹروں کو ان کے سینیٹ میں پہنچنے کے خلاف متحرک کرنے کی کوشش کی،پورٹ ہورون میں منعقدہ جلسے میں ٹرمپ کی تقریر کا بڑا حصہ معاشی مسائل یا راجرز کے انتخابی منشور کے بجائے عبدالسید کے مذہب، سیاسی وابستگیوں اور امریکی قومی سلامتی کے لیے ان سے منسوب خطرات پر مرکوز رہا،عبدالسید ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں اور اخوان المسلمون سے کسی تعلق کی تردید کرتے ہیں
جلسے میں ٹرمپ سے پہلے خطاب کرنے والے ڈیوڈ بیمر نے امریکی شہریت اور قومی شناخت کے درمیان فرق کا حوالہ دیتے ہوئے عبدالسید کو امریکی نہ ماننے کی بات کی،ڈیوڈ بیمر، 11 ستمبر کے حملوں کے دوران ہائی جیک ہونے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 93 کے مسافر ٹوڈ بیمر کے والد ہیں،ان کے بیٹے نے دوسرے مسافروں کے ساتھ طیارے کے ہائی جیکروں کے خلاف مزاحمت کی تھی اور طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہوگیا تھا
ڈیوڈ بیمر نے کہا کہ عبدالسید کے پاس امریکہ میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ ہے جو ان کی امریکی شہریت کی تصدیق کرتا ہے، لیکن ان کے بقول پیدائش کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کے امریکی ہونے کی ضمانت نہیں،انہوں نے عبدالسید کو ’’اینٹی امریکن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز امریکی ہیں، جب کہ عبدالسید کی سوچ امریکہ کے لیے خطرہ ہے،قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں امیدوار مشیگن میں پیدا ہوئے ہیں،اس لیے یہ بحث کسی امیدوار کی جائے پیدائش کے بجائے اس بات پر مرکوز تھی کہ سیاسی مخالفین امریکی شناخت اور حب الوطنی کا تعین کس بنیاد پر کر رہے ہیں،
ٹرمپ نے ڈیوڈ بیمر کے بیان کے بعد خود بھی 11 ستمبر کے حملوں کو موجودہ انتخابی مقابلے سے جوڑ دیا،انہوں نے کہا کہ پچیس برس بعد مشیگن کو ٹوڈ بیمر کی طرح کھڑے ہو کر ایک ’’جہادی‘‘ کو کیپیٹل تک پہنچنے سے روکنا چاہیے،اس تشبیہ کے ذریعے ٹرمپ نے ایک منتخب ہونے والے سینیٹر کے کردار اور اختیارات کو دہشت گرد حملے کے تناظر میں پیش کیا،ان کے اس مؤقف کے برعکس عبدالسید کا کہنا ہے کہ ان کی امریکی وفاداری پر سوال اٹھانا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کی آئینی وفاداری مشکوک ہے
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کو بھی نشانہ بنایا،انہوں نے صومالیہ کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جہاں ان کے بقول مؤثر حکومت، پولیس اور قانون کا نظام موجود نہیں، اور الزام لگایا کہ عمر امریکہ میں رہتے ہوئے امریکی آئین اور شہری حقوق کی بات کرتی ہیں، حالاں کہ وہ اپنے آبائی ملک کے حالات سے مختلف نظام کی نمائندگی کرتی ہیں،ٹرمپ نے ان کے نام کے بارے میں بھی دعوے کیے اور مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس سے مستعفی ہوں،ان الزامات اور توہین آمیز تبصروں کے ذریعے انہوں نے امیگریشن اور قومی شناخت کو انتخابی بحث کے مرکز میں رکھا
فرانس کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکہ کو یورپی ممالک کے تجربے سے سبق سیکھنا چاہیے،انہوں نے فرانس، اٹلی اور اسپین میں امیگریشن سے متعلق تنازعات اور احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایسے افراد کو ملک میں آنے کی اجازت دی گئی جو ان معاشروں کی ثقافت اور اقدار کو قبول نہیں کرتے،انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے اپنی سابقہ گفتگو کا حوالہ بھی دیا، جس میں ان کے بقول انہوں نے فرانس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے سرحدیں بند نہ کیں تو وہ اپنا ملک کھو دے گا،ٹرمپ نے اسی تناظر میں امریکہ میں امیگریشن کے خلاف سخت پالیسیوں کا دفاع کیا
جلسے میں ٹرمپ نے مائیک راجرز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے امیدوار کے طور پر پیش کیا جو امریکی اقدار اور مشیگن کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں،انہوں نے راجرز کو ’’ایپل پائی کی طرح امریکی‘‘ قرار دیا، جب کہ عبدالسید کے بارے میں کہا کہ انہیں سینیٹ تک نہیں پہنچنے دینا چاہیے،ٹرمپ نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں، کیونکہ ان کے بقول ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے لیے ووٹر ٹرن آؤٹ فیصلہ کن ہوگا
اس انتخابی مہم میں معاشی مسائل بھی موجود تھے، لیکن جلسے میں عبدالسید کے خلاف حملوں نے نمایاں جگہ حاصل کی،مشیگن کی سیاست میں یہ پہلو اہم ہے کیونکہ ریاست کی معیشت کا بڑا حصہ گاڑیوں کی صنعت اور کینیڈا کے ساتھ تجارت سے وابستہ ہے،ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازعہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، جب کہ راجرز نے گاڑیوں کی تجارت پر ٹیرف کے اثرات کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں،یوں ریپبلکن امیدوار ایک طرف ٹرمپ کی حمایت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، تو دوسری طرف انہیں ایسی تجارتی پالیسی کے اثرات کا بھی سامنا ہے جس سے ریاست کے کاروبار اور صارفین متاثر ہو سکتے ہیں،
امریکی سیاست میں کسی امیدوار کی حب الوطنی، قومی شناخت اور خاندانی پس منظر کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ پرانی ہے،1988 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار جارج ایچ ڈبلیو بش نے ڈیموکریٹ امیدوار مائیکل ڈوکاکس کے خلاف اپنی مہم میں قومی سلامتی، جرائم اور حب الوطنی کے سوالات کو نمایاں کیا تھا،تاہم ڈوکاکس یونانی نژاد امریکی خاندان میں پیدا ہوئے تھے، جبکہ سابق صدر بش سنئیر مرحوم کی انتخابی مائیکل ڈوکاکس کو امریکی روایات سے نابلد قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا “ انکا خاندان ستر اسی سال پہلے امریکہ آیا انہیں امریکہ کا کیا علم ، اس تاریخی انتخابی مہم سے متعلق ایک اہم سبق یہ ہے کہ امریکی سیاست میں مخالف امیدوار کے کردار اور ملک سے وابستگی پر سوال اٹھانا طویل عرصے سے انتخابی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے
مشیگن میں جاری یہ مقابلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا نتیجہ سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے،ڈیموکریٹک امیدوار عبدالسید کے خلاف ٹرمپ کے حملے صرف ایک ریاستی انتخابی مہم تک محدود نہیں بلکہ اس وسیع تر قومی بحث سے جڑے ہیں جس میں امیگریشن، مذہبی شناخت، امریکی شہریت اور سیاسی وفاداری کے سوالات کو انتخابی سیاست میں استعمال کیا جا رہا ہے،ان الزامات کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اخوان المسلمون سے عبدالسید کے تعلق کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد درکار ہیں





