ٹیکساس میں ریپبلکنز کی نئی انتخابی حلقہ بندیوں کا منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ، سروے میں ڈیموکریٹس کی مزاحمت سامنے آگئی
واشنگٹن پوسٹ اور شار اسکول کے 14 سے 19 اکتوبر تک کیے گئے سروے کے مطابق، ٹیکساس کے 34ویں کانگریشنل حلقے میں ڈیموکریٹ امیدوار وِسینٹے گونزالیز کو ریپبلکن ایرک فلورس پر 50 فیصد کے مقابلے میں 43 فیصد حمایت حاصل ہے، جبکہ 35ویں حلقے میں ریپبلکن کارلوس ڈی لا کروز 48 فیصد اور ڈیموکریٹ جانی گارسیا 47 فیصد پر ہیں
ریپبلکنز نے ٹیکساس میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی اس مقصد سے کی تھی کہ ایوانِ نمائندگان میں پارٹی کی مزید نشستیں جیتنے کے امکانات بڑھائے جا سکیں، لیکن تازہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ دو اہم حلقوں میں مقابلہ توقع سے زیادہ سخت ہے،دونوں حلقوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں تقریباً 10 پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی
سروے کے مطابق مہنگائی اور روزمرہ اخراجات ووٹروں کے اہم ترین مسائل میں شامل ہیں،دونوں حلقوں میں تقریباً نصف ووٹروں نے اخراجات کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، جبکہ تقریباً نصف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ان کی مالی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے،ہسپانوی نژاد ووٹروں کی بڑی تعداد بھی ریپبلکنز کے لیے ایک اہم انتخابی چیلنج بن رہی ہے
یہ نتائج اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی حلقہ بندی سے ریپبلکنز کو حاصل ہونے والا متوقع فائدہ محدود رہ سکتا ہے، تاہم سروے کی غلطی کی گنجائش اور انتخابی مہم کے باقی دنوں کے باعث حتمی نتیجے کے بارے میں ابھی فیصلہ کن نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا





