آپ کے بتائے ہوئے زاویے سے اس خبر کا مرکزی سوال یہ ہے کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے نام پر بڑھتی ہوئی کیمرا نگرانی اور جرمانوں کا بوجھ نیویارک کے عام شہریوں، ٹیکسی ڈرائیوروں، ڈیلیوری ورکرز اور روزانہ روزگار کے لیے گاڑی چلانے والوں پر کتنا پڑتا ہے۔ تاہم، زرد بتی کے دوران گزرنے، سرخ بتی کی خلاف ورزی اور کیمروں کی ریکارڈنگ کے قواعد الگ ہیں، اس لیے خبر میں ان کا فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
نیویارک میں 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمرے، سڑکوں کی حفاظت یا مہنگائی میں گھرے شہریوں پر جرمانوں کا مزید بوجھ؟
نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ نے شہر کے پانچوں بورو میں 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمروں کی تنصیب مکمل کر دی ہے،انتظامیہ اسے ٹریفک حادثات میں کمی اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دے رہی ہے، لیکن اس توسیع نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان عام شہریوں، ٹیکسی ڈرائیوروں، ڈیلیوری ورکرز اور روزانہ گاڑی چلا کر روزی کمانے والوں پر خودکار نگرانی اور جرمانوں کا اضافی بوجھ کس حد تک پڑے گا
نیویارک میں گاڑی چلانا بہت سے لوگوں کے لیے محض سہولت نہیں بلکہ روزگار کی ضرورت ہے،ٹیکسی، رائیڈ شیئرنگ، خوراک اور سامان کی ترسیل اور دوسرے کاروباری کاموں سے وابستہ افراد دن بھر متعدد چوراہوں سے گزرتے ہیں،ان کے لیے معمولی نوعیت کی ٹریفک خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بار بار جرمانے مالی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں،ایسے وقت میں جب رہائش، خوراک، انشورنس اور گاڑی چلانے کے اخراجات پہلے ہی شہریوں کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، شہر کی انتظامیہ کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ٹریفک کی حفاظت کے اقدامات عام شہریوں کے لیے غیر متناسب مالی سزا کا ذریعہ نہ بن جائیں
شہر کے سرکاری قواعد کے مطابق ریڈ لائٹ کیمرے کا جرمانہ 50 ڈالر ہے،یہ جرمانہ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کو بھیجا جاتا ہے، چاہے اس وقت گاڑی کوئی دوسرا شخص ہی کیوں نہ چلا رہا ہو،اس خلاف ورزی پر ڈرائیونگ لائسنس کے پوائنٹس نہیں کاٹے جاتے، لیکن ایک ہی دن مختلف مقامات پر ریکارڈ ہونے والی خلاف ورزیوں کے الگ الگ جرمانے عائد ہو سکتے ہیں،اس طرح روزانہ کئی مقامات پر گاڑی چلانے والے افراد کے لیے مالی خطرہ بڑھ سکتا ہے
یہ تاثر بھی عام ہے کہ کیمرے کے ذریعے جاری ہونے والے جرمانے کو چیلنج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور ہر صورت میں قصوروار قرار دیا جاتا ہے،لیکن شہر کے سرکاری قواعد کے تحت گاڑی کا مالک جرمانے کے خلاف سماعت کی درخواست دے سکتا ہے اور فیصلے کے خلاف اپیل کا طریقہ بھی موجود ہے،لہٰذا کیمرے کا ٹکٹ خودبخود ناقابلِ اعتراض یا حتمی فیصلہ نہیں ہے
ممدانی انتظامیہ اپنے فیصلے کے حق میں حادثات سے متعلق اعداد و شمار پیش کر رہی ہے،شہر کے محکمۂ ٹرانسپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران چوراہوں پر ہونے والے مہلک حادثات میں سے 22 فیصد میں سرخ بتی عبور کرنے کا عمل شامل تھا،محکمہ یہ بھی کہتا ہے کہ جن چوراہوں پر کیمرے نصب ہیں وہاں سرخ بتی عبور کرنے کی خلاف ورزیوں میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، جبکہ عقب سے ٹکرانے کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً 60 فیصد اور سائیڈ سے ٹکرانے کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 70 فیصد کم ہوئی ہے،یہ اعداد و شمار کیمروں کے ممکنہ حفاظتی فوائد کو ظاہر کرتے ہیں، اگرچہ ان کے ساتھ یہ جانچنا بھی ضروری ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کے خطرات اور جرمانوں کا بوجھ کس طرح تقسیم ہو رہا ہے
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا شہر میں ٹریفک کی حفاظت کے لیے کیمروں پر انحصار بڑھانے کے ساتھ سڑکوں کی ساخت، سگنل کے دورانیے، واضح نشانات اور خطرناک چوراہوں کی اصلاح پر بھی اتنی ہی توجہ دی جا رہی ہے؟ اگر کسی مقام پر سگنل کی ترتیب، سڑک کی بناوٹ یا ٹریفک کے بہاؤ میں مسئلہ ہو تو صرف جرمانے بڑھانا اس مسئلے کا مکمل حل نہیں،حفاظت کی پالیسی کا مقصد حادثات روکنا ہونا چاہیے، نہ کہ شہریوں سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنا
نیویارک کی ریاستی قانون سازی نے شہر کو زیادہ سے زیادہ 600 چوراہوں پر ریڈ لائٹ کیمرے لگانے کی اجازت دی تھی اور اب انتظامیہ نے یہ حد پوری کر دی ہے،اس لیے آئندہ توسیع کے لیے ریاستی سطح پر مزید قانونی اجازت درکار ہوگی،
اصل چیلنج یہ ہے کہ نیویارک سڑکوں کو محفوظ بناتے ہوئے ان لوگوں کی مشکلات بھی پیش نظر رکھے جو شہر کی روزمرہ معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،اگر کیمرے خطرناک ڈرائیونگ کم کرتے ہیں تو ان کا فائدہ واضح ہے، لیکن منصفانہ نفاذ، شفاف اپیل کے طریقۂ کار اور خطرناک چوراہوں کی حقیقی اصلاح بھی اتنی ہی ضروری ہے،شہریوں کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ شہر میں کتنے کیمرے لگے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان سے حفاظت میں کتنا اضافہ ہوگا اور ان کا مالی بوجھ عام آدمی پر کس حد تک پڑے گا





